مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 260
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 244 سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تو رات کی پیشگوئیوں پر گفتگو ہوئی۔بعض غیر احمدی اصحاب بھی اس موقعہ پر حاضر تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب پر اچھا اثر ہوا۔عیسائیوں کا مباحثہ سے فرار مصر کے سب سے بڑے دشمن اسلام پادری سرجیوس کے گرجا میں گیا۔وہ وعدہ کے باوجود مجھے سوالات تک کرنے کی اجازت نہ دے سکے۔جب میں نے دیکھا کہ زبانی گفتگو کی کوئی صورت نہیں ہے تو میں نے کھلی چٹھی برائے تحریری مناظرہ شائع کر دی۔یہ ٹریکٹ بکثرت شائع کیا گیا۔خاص طور پر پادری صاحب مذکور کے گر جا کے پاس زیادہ تقسیم کیا گیا۔قاہرہ کے روزانہ اخبار الکشکول نامی نے بھی ہماری اس کھلی چٹھی کو شائع کیا۔اس پر پادری سر جیوس نے اپنے ہفتہ واری رسالہ المنارۃ المصریۃ میں طویل مضمون لکھا جس میں گالیوں کے علاوہ سیاسی مسائل کا جھگڑا ، مسلمانوں کی اکثریت اور عیسائیوں کی اقلیت کا رونا رونا شروع کر دیا۔آخر ہماری کھلی چٹھی کے ایک حصہ کو نقل کر کے مناظرہ سے صاف انکار کر دیا۔جس سے عیسائیوں کے سمجھ دار طبقہ میں حیرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔کئی مسیحی دوستوں نے پادری صاحب کے رویہ پر نفرت کا اظہار کیا۔اور انہیں مناظرہ پر تیار کرنے کے لئے آمادگی ظاہر کی۔میں نے پادری صاحب کے اس مضمون کا جواب روز نامہ الکشکول کی اشاعت 2 ستمبر میں مفصل شائع کیا ہے۔نہایت نرم لہجہ میں دوبارہ فیصلہ کن تحریری مناظرہ کے لئے بلایا ہے۔میرے مضمون کو ایڈیٹر صاحب الکشکول نے بہت پسند کیا۔امید نہیں کہ پادری صاحب مذکور مناظرہ کے لئے تیار ہوں۔بہر حال جماعت احمدیہ مصر نے فیصلہ کیا کہ پادری صاحبان کو گھر تک پہنچانے کے لئے پورے طور پر ان پر اتمام حجت کی جائے۔اگر پادری سرجیوس نہیں تو کوئی اور ہی اس تی میدان میں نکلے۔علمی مکالمه ڈاکٹرز کی مبارک مصر کے مشہور ترین ادباء میں سے ہیں۔میں نے ان سے ملاقات کے لئے وقت مقرر کیا۔مقررہ وقت پر ان کے پاس ایک بڑا از ہری عالم بھی موجود تھا۔میرے ساتھ برادرم منیر افندی اکھنی بھی تھے۔ڈاکٹر موصوف خوش اخلاقی سے پیش آئے۔قریبا ایک