مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 259
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 243 التبرعات فلم لا تسمى اسمك أبا الأخذ؟ کہ اے استاذ ، آپ کا ناام ابو العطاء ( عطا کرنے والا) ہے مگر آپ ہمیشہ چندوں کی تحریک کرتے رہتے ہیں۔آپ اپنا نام ابوالاً خذ ( یعنی لینے والا ) کیوں نہیں رکھتے لیتے ؟ میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ راہ خدا میں مال خرچ کرنے کی تحریک کرنا بھی ایک عطا ہے اس لئے میرا نام ابو العطاء ہی رہنے دیں۔مجلس میں اس سے خوش طبعی کی لہر پیدا ہوگئی۔مرحوم محی الدین اکھنی بہت خوبیوں کے مالک تھے۔رحمہ اللہ۔الحركة الأحمدية في البلاد العربية (الفرقان ربوہ، جون 1971 ء صفحہ 25 تا 26 10 ستمبر 1934ء کو حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری نے ایک مضمون تحریر فرمایا جس کا عنوان ادارہ الفضل نے ” حفاظت واشاعت اسلام کے متعلق ایک احمدی مبلغ کی کامیاب جد و جہد“ قائم کر کے درج ذیل کامیاب مساعی کا ذکر کیا: ایک انگریز خاتون کا قبول اسلام وہ ہمارے نئے احمدی بھائی السید احمد آفندی ذہنی کی بیوی ایک انگریز لیڈی۔متعصب مسیحی خاتون تھیں۔انجیل خوب جانتی ہیں۔میں جب قاہرہ آیا تو انو تبلیغ اسلام کی گئی۔چونکہ وہ عربی اچھی طرح نہیں جانتی اس لئے میرے بیان کو انگریزی میں بیان کرنے کے لئے ذهنی آفندی ترجمان ہوتے۔متعدد مرتبہ گفتگو ہوئی ، ہر سوال کا کافی و وافی جواب دیا گیا۔تین چار مرتبه با قاعدہ طور پر اسلام اور عیسائیت کے موازنہ پر لمبی بحث ہوتی رہی۔انداز بحث آزادانہ اور علمی ہوتا تھا۔آخر محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے 18 اگست کو اس نے میرے ذریعہ قبول اسلام کر لیا۔اور اس کی درخواست بیعت سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے حضور ارسال کر دی گئی۔ایک یہودی سے گفتگو ایک یہودی مکان پر آئے انہوں نے میرا عبرانی اشتہار پڑھا تھا۔قریبا دو گھنٹہ تک ان