مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 256 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 256

240 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول جس میں انہوں نے جماعت احمدیہ کی عالمگیر خدمات اسلام کا اعتراف کیا ہے۔ان کا یہ بیان یافا (فلسطین) کے اخبار الجامعۃ الاسلامیۃ نے اپنی اشاعت 14 نومبر 1933ء میں شائع کیا۔علامہ مراغی نے عالم اسلام کے دینی تربیت کا محتاج ہونے تبلیغ اسلام کی ضرورت اور زمانے کے تقاضوں کا ذکر کرنے کے بعد لکھا: ہندوستانی مسلمانوں کی جماعت احمدیہ کے افراد نے ہندوستان اور انگلینڈ میں تبلیغ اسلام شروع کر رکھی ہے اور انہیں اس میں ایک حد تک کامیابی بھی ہوئی ہے۔جیسا کہ وہ افراد بھی کامیاب ہوئے ہیں جو کہ امریکہ میں تبلیغ اسلام کر رہے ہیں۔اس مضمون کے آخر میں حضرت مولا نا کا نام درج ہے۔الفضل 11 / مارچ 1934 ء صفحہ 7) بلاد عربیہ میں احمدی پریس کا قیام اور ماہوار عربی رسالہ کا اجراء حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی الفضل میں مطبوعہ ایک رپورٹ۔احباب جماعت یہ پڑھ کر خوش ہوں گے کہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے جماعتہائے بلا دعر بیہ کو جبل کرمل پر احمد یہ پریس قائم کرنے کی توفیق ملی ہے۔مسجد سید نا محمود اور مدرسہ احمدیہ کے افتتاح کے بعد احمد یہ لائبریری اور بلڈ پوکا قیام نیز مرکز تبلیغ کا بننا مسرت انگیز امور ہیں۔لیکن احمد یہ پریس کا قیام بھی از بس ضروری تھا۔ہماری جماعت کی تعداد بھی تھوڑی ہے ،لیکن احمدیہ بھی از اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخالفین پر ایک رعب ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ مصر فلسطین شام اور عراق کے اخبارات ہماری مخالفت کرنا اور احمدیت سے لوگوں کو نفرت دلانا اپنا اہم ترین کارنامہ شمار کرتے ہیں۔ان اخبارات کے اعتراضات کے جوابات ، نیز سلسلہ تبلیغ کو باقاعدہ اور محکم کرنے کے لئے احمدیہ پریس کا ہونا بہت ضروری امر تھا۔پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کی عربی کتب کی اشاعت تبلیغ کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا حکم رکھتی ہے۔اکثر اصحاب ہم سے حضور کی کتب کا مطالبہ کرتے ہیں۔لیکن جب دیکھتے ہیں کہ لیتھو پریس پر ہندی حروف میں وہ کتب طبع شدہ ہیں تو عادتاً ایسی کتابوں کا مطالعہ عام طور پر ان ملکوں کے باشندوں بالخصوص نئے فیشن کے تعلیم یافتہ طبقہ کے لئے مشکل ہوتا ہے۔پس یہ ایک نہایت اہم اور قومی ضرورت ہے کہ جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب عمدہ طور پر طباعت کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرے۔ان دوضرورتوں کے پیش نظر عربی