مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 255 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 255

239 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول فاضل احمدی مبلغ نے تمام احباب جماعت کی موجودگی میں اس مسجد کا بنیادی پتھر رکھا اور اخلاص بھرے دلوں کے ساتھ احباب مسجد بنانے میں مصروف ہو گئے۔ماہ ستمبر 1931 ء میں خاکسار یہاں آیا اور مولوی صاحب موصوف ہندوستان تشریف لے گئے۔مسجد کی تعمیل کا کام آہستہ آہستہ جاری رہا۔حتی کہ دسمبر 1933 ء میں مسجد بالکل مکمل ہوگئی اور 13 دسمبر 1933 ء کو اس عاجز نے مسجد کا باقاعدہ افتتاح کیا۔اور تمام دوستوں سمیت دعا ئیں کی گئیں کہ اللہ تعالیٰ اس مسجد کو ہمیشہ آباد ر کھے اور عبادت و ذکر الہی کرنے والے انسان تا قیامت اس جگہ موجود رہیں۔رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمٌ - آمين اس کی تکمیل کی تاریخ کا کتبہ یوں ہے: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله جامع سید نا محمود شعبان 1352ھ ابو العطا الجالندھری یہ کتبہ بڑے شمالی دروازے کے اوپر لگایا گیا ہے۔اس کے افتتاح کی تقریب کا ذکر حضرت مولانا نے یوں فرمایا: اس مبارک مسجد کا افتتاحی جلسہ 3 دسمبر 1933ء مطابق 10 شعبان 1352ھ کو ہوا۔جس میں 16 احمدیوں نے لیکچر دئیے جس میں سے الشیخ علی الفرق الشیخ احمدی المصری، الشیخ سلیم الربانی، الشیخ عبد الرحمن البرجاوی، الشیخ صالح العودی، الشیخ احمد الکبابیری، اور السید خضر آفندی القزق خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اخیر پر خاکسار نے ایک مفصل لیکچر دیا جس میں مسجد کی اغراض اور جماعت احمدیہ کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔اور بعد ازاں ایک لمبی دعا کے بعد جلسہ برخاست ہوا۔فالحمد لله أولا وآخرا۔جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات کا اعتراف الفضل مؤرخہ 8 مارچ 1934 ، صفحہ 5) حضرت مولانا کے قیام بلاد عربیہ کے دوران ایک قابلِ ذکر واقعہ عالم عرب کی ایک ممتاز دانشور ماہر تعلیم اور مشہور زمانہ الازہر یونیورسٹی کے سابق سربراہ الشیخ مصطفیٰ المراغی کا بیان ہے