مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 249
233 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول فاضل باشا مصری نے جو سوڈان میں فوج کے افسر اعلیٰ رہ چکے ہیں اور علم دوست شخص ہیں ایک گھنٹہ کی گفتگو کے بعد کہا کہ مولوی صاحب نے مجھ کو نصف احمدی تو بنالیا ہے۔اس سلسلہ میں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ امسال سلسلہ احمدیہ کے بدترین دشمنوں کو بھی ان کے گھروں پر جا کر پیغام حق پہنچایا گیا۔جن میں سے شیخ رشید رضا ایڈیٹر المنار اور محب الدین الخطیب ایڈیٹر افتح خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔مصری پارلیمنٹ کے ایک ممبر کو تبلیغ کرنے کا بہترین موقع ملا اور وہ بہت اچھا اثر لے کر گئے۔مناظرات دوران سال تقریبا 18 باقاعدہ مناظرات ہوئے ہیں۔12 مسلمان علماء سے اور 6 پادریوں سے۔علماء کے ساتھ وفات مسیح، نسخ فی القرآن، ختم نبوت اور صداقت مسیح موعود علیہ السلام پر گفتگو ہوئی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر موقع پر کامیابی حاصل ہوئی۔علمائے ازہر کے ایک گروہ سے ختم نبوت پر مباحثہ ہوا۔ایک کے بعد دوسرا مناظر بدلا گیا مگر آخر انہیں اپنی عاجزی کا قولاً وفعلاً اعتراف کرنا پڑا اور غیر احمدی سامعین پر بھی بہت اچھا اثر ہوا۔پادریوں سے فادر انستاس الکر ملی سے حیفا میں خاص طور پر قابل ذکر گفتگو ہوئی اور قاہرہ میں امریکن مشن کے انچارچ اور ڈاکٹر زویمر کے قائمقام ڈاکٹر فلپس (Philips) سے کفارہ کے موضوع پر چار ہفتے مناظرات ہوئے۔ہر مناظرہ میں بفضل تعالیٰ خاص کامیابی حاصل ہوئی۔مگر آخری مناظرہ بعنوان کیا یسوع مسیح صلیب پر نہیں مرا نہایت شاندار رہا۔اللہ تعالیٰ نے مختصر وقت میں غیر معمولی تاثیر عطا فرمائی اس روز 70 اشخاص موجود تھے جن میں وکیل ، علماء اور نو تعلیم یافتہ اور کالجوں کے طلباء بھی تھے۔عیسائیوں کی طرف سے پادری کامل منصور ، پادری فلپس اور پادری ایلڈر باری باری پیش ہوئے اور ہر ایک عاجز آ کر خاموش ہو جاتا رہا۔دو گھنٹہ تک با قاعدہ مناظرہ ہوا اور دوست و دشمن نے محسوس کر لیا کہ فی الواقع حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسر صلیب کا جو طریقہ بیان فرمایا ہے وہ بالکل اچھوتا اور بے حد کامیاب ہے۔اخیر پر ایک معزز غیر احمدی نے جو شیخ الازہر کا رشتہ دار ہے شاندار الفاظ میں احمدی مناظر کا شکر یہ ادا کیا اور ایک از ہری طالبعلم نے کہا: بخدا اگر سارے علمائے از ہر مل کر بھی ایسا مناظرہ کرنا چاہیں تو نہ کر سکیں۔پادری کامل منصور نے جاتے وقت کہا کہ فی الواقع آپ نے عیسائیت کا ہم سے بھی -