مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 248
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 232 سلسلہ احمدیہ کی خدمات کا اعتراف ہونا شروع ہو گیا ہے۔شیخ العروبہ احمد ز کی باشا نے مولوی کی اللہ دتہ صاحب ( ابو العطاء) سے کہا کہ درحقیقت عیسائیت کی بڑھتی ہوئی رو کا مقابلہ صرف آپ کی جماعت ہی کر سکتی ہے۔ایک غیر احمدی دوست نے کہا کہ آپ لوگوں کی بہترین تنظیم اور غیر معمولی جدو جہد کے پیش نظر میرا تو یہ خیال ہے کہ عنقریب دنیا کی حکومت احمدیوں کے قبضہ میں ہوگی۔حالات کے امید افزا ہونے کا اس سے بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ علماء اور مشائخ کے طبقہ میں غیر معمولی ہیجان پایا جاتا ہے۔مخالفانہ مضامین کے علاوہ قتل کے فتوے اور احمدیوں کو دکھ دینے کے منصوبے کئے جارہے ہیں۔حکومتوں کو انکے خلاف بھڑکا یا جارہا ہے۔یہ سب کچھ ہورہا ہے اور اس سے واضح ہے کہ دشمن احمدیت کی طاقت سے خوف کھا رہا ہے۔نومبائعين اس سال 33 اشخاص داخل سلسلہ ہوئے ہیں (گزشتہ سال تعداد نو مبایعین 25 تھی ) ان نو مبایعین میں سے ایک بزرگ عالم ہیں جو اپنے سلسلہ میں پیشوا مانے جاتے تھے۔ایک اخبار نویس ہیں۔ایک دوست متعدد رسالوں کے مصنف ہیں۔ایک کالج کے طالبعلم ہیں۔بعض تاجر اور بعض زمیندار طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔دو مدرس اور ایک سرکاری ملازم ہیں۔نئی جماعتیں 1- موضع ام الفحم میں نئی جماعت قائم ہوئی ہے۔اس جماعت میں ایک اچھے مالدار دوست بھی شامل ہیں۔2۔اسی طرح موضع عارہ میں بھی نئی جماعت قائم ہوئی ہے اس جگہ کے مشہور عالم الشیخ محمد اللبدی داخل سلسلہ ہوئے ہیں۔انفرادی تبلیغ اندازہ کیا گیا ہے کہ افراد جماعت اور دار التبلیغ کے ذریعہ دوران سال ڈیڑھ ہزار اشخاص کو فردا فردا تبلیغ کی گئی ہے۔بعض معززین کے گھروں پر جا کر تبلیغ کی گئی۔جناب علی