مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 247
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول اعمال کی کھیتی کے لئے بگولا اور آگ ہے۔قادیان سے حیفا تک 231 حضرت مولانا ابو العطاء صاحب اپنے ایک مضمون میں اپنے سفر کے بعض حالات کا تذکرہ فرمایا ہے اس کے ایک حصہ کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔فرماتے ہیں کہ: جہاز بصرہ جارہا تھا۔قریبا چھ روز مختلف بندر گاہوں پر ٹھہرتا ہوا یہ جہاز بصرہ کی بندرگاہ پر پہنچا۔وہاں بھی احمدی دوست موجود تھے وہاں سے بغداد کے لئے روانگی ہوئی جہاں محترم الحاج عبداللطیف صاحب مرحوم مشہور احمدی تاجر کے ہاں چند روز قیام رہا احباب جماعت اور دوسرے دوستوں سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔بغداد سے بذریعہ موٹر کار دمشق کے لئے روانہ ہوا۔وہاں سے احباب کی ملاقات کے بعد بیروت پہنچا۔وہاں سے حیفا پہنچا۔آخر دس دن کے اس سفر کا خاتمہ بہت ہی خوش گوار صورت میں ہوا اور میں احمدیہ دار البلیغ بلا د عربیہ میں بخیریت پہنچ گیا۔حضرت مولانا شمس صاحب کے ذریعہ کام کی نوعیت اور تفصیلات کا تعارف ہوا۔آخر اگست 1931ء کو دار التبلیغ کا چارج لیا۔اس پر محترم مولانا شمس صاحب مرحوم مصر سے ہوتے ہوئے قادیان کے لئے روانہ ہوئے۔اس وقت بھی جذبات کا ایک خاص تلاطم تھا۔فلسطین کے احمدی احباب نے بے مثال محبت سے تعاون فرمایا۔امید افزا حالات مختلف مقامات پر حضرت مولانا کے قیام فلسطین ومصر وغیرہ کی کچھ شائع شدہ رپورٹیں ذیل میں پیش ہیں جو از یکم اپریل 1932 تا 31 مارچ 1933 کی ہیں۔سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمدیہ -32-1933 صفحہ 151 تا 155 پر ذیل کی رپورٹ درج ہے: اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس سال بلا د عربیہ میں سلسلہ کے لئے نہایت امید افزا حالات پیدا ہوئے ہیں اور تبلیغ کے بہت سے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔اخبارات کی مخالفت یا تعریف سے ظاہر ہے کہ سلسلہ کی اہمیت کو محسوس کیا جارہا ہے۔ہر طبقہ کے لوگوں میں