مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 246
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 230 حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی بلا دعر بیہ میں آمد ذیل میں مذکور اس دور کے بیشتر واقعات و تاریخی حالات حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی سوانح حیات حیات خالد" سے ماخوذ ہیں) حضرت مولانا ابو العطاء جالندھری صاحب 13 / اگست 1931ء کو قادیان سے روانہ ہوئے اور 4 ستمبر 1931ء کو حیفا ( فلسطین) پہنچے۔آپ کی عمر اس وقت 27 سال تھی۔ایک کامیاب مبلغ اور ہمہ جہتی مفکر کے طور پر آپ نے اس سفر کی تیاری میں سب سے پہلے سفر کے اہداف و مقاصد متعین فرمائے جو یہ تھے: (1) تبلیغ احمدیت واسلام۔(2) عربی زبان کا سیکھنا۔(3) نفس کی اصلاح اور مقام ولایت۔(4) ملکی و تاریخی حالات کا مطالعہ۔(5) حج کرنا۔(6) حفظ قرآن پاک۔اسی طرح اس زمانے میں ایک روایت یہ بھی تھی کہ جو مبلغ بیرون ممالک میں تبلیغ کی غرض سے بھیجے جاتے تھے ان کی اپنی خواہش و کوشش بھی ہوتی تھی اور سلسلہ کی طرف سے ہدایت بھی کہ وہ پرانے بزرگوں سے مل کر رہنمائی ،مشورے، اور دعائیں حاصل کریں۔چنانچہ مولانا ابو العطاء صاحب نے بھی اپنے بعض بزرگوں سے ہدایات لیں۔ان میں سے حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب نے عربی زبان میں نصائح لکھ کر دیں، جن میں سے ایک نصیحت یہاں فائدہ عام کے لئے لکھی جاتی ہے فرمایا: اس بات سے بچتے رہنا کہ تیرا نفس تجھے کہے کہ تو نے خوب کام کیا ، حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور اسے بھی جو تم عمل کرتے ہو۔پس یقینا جانو کہ یہ بات تمہارے