مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 242
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 226 حیرت ہوئی۔نو بج کر چند منٹ پر مجھے طلب کر لیا گیا۔شاہ کا کمرہ ایک بہت بڑا ہال تھا۔جو ایرانی قالینوں سے مفروش تھا۔شاہ دروازہ کے قریب چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر چہل رہے تھے۔جونہی میرا سامنا ہوا بادشاہ کھڑے ہو گئے۔میں نے سلام کیا۔شاہ نے ہاتھ بڑھایا۔میں نے مصافحہ کیا اور اس کے بعد مجھے ساتھ لے کر ہال کے صدر میں گئے اور مجھے بیٹھنے کا ارشاد فرمایا اور بیٹھ گئے۔میں نے شاہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا:۔میں مذہباً احمدی جماعت کا فرد ہوں جن کا اعتقاد ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام قادیانی اس زمانے میں مسیح موعود اور مہدی تھے۔ہماری جماعت اس وقت دس لاکھ سے کچھ اوپر ہے۔ہمارے افراد تمام دنیا میں پھیل گئے ہیں۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرزند اکبر حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ثانی ہیں۔ان کے زمانہ میں ہماری جماعت کو بڑی ترقی ہوئی۔انہوں نے یورپ اور امریکہ کے سوا مشرق کے مختلف ملکوں میں سلسلہ کے مشن کھولے اور آپ نے جماعت کو پورے طور پر منظم کیا۔حجاز کا انقلاب جب ہوا ہندوستان میں ایک زلزلہ رونما ہوا۔سب مسلمان مخالفت کر رہے تھے۔اس وقت صرف حضرت خلیفہ مسیح نے آواز اٹھائی کہ جیسے دیگر اقوام کو آزادی کا حق ہے ایسے ہی عربوں کو بھی حق ہے۔عرب وہ ہیں جنہوں نے ساری دنیا کو تمدن اور علوم سکھلائے اور اسلام جیسا پاکیزہ مذہب بھی ہم کو ایک عرب ہی کے طفیل ملا۔66 یہ سن کر بادشاہ مجھ سے یوں مخاطب ہوئے:۔مجھے احمدی جماعت کا اچھی طرح علم ہے۔میں مرزا احمد قادیانی کو دنیا کا بہت بڑا انسان سمجھتا ہوں۔میں ان کی جماعت کے کام سے جو یورپ امریکہ میں ہورہا ہے واقف ہوں۔اور میرے دل میں اس جماعت اور اس کے بانی کا بڑا احترام ہے اور عربی قضیہ میں جو امام جماعت احمدیہ قادیان نے کہا اس کے لئے میں اپنے اندر جذبہ امتنان پاتا ہوں“۔دجلہ کے کنارے شیخ محمود احمد عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ : دجلہ کا کنارہ تھا۔شاہ علی بن حسین جو حجاز کے بادشاہ تھے اپنے محل کے شہ نشین پر جو بالکل دجلہ کے پانی پر واقع تھا آرام کرسی پر تنہا بیٹھے ہوئے تھے اور دجلہ میں کشتیوں کی سیر دیکھ رہے