مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 241 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 241

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 225 عراق ومصر میں تبلیغ اور شیخ محمود احمد عرفانی صاحب کی بعض یا دیں مکرم شیخ محمود احمد عرفانی صاحب نے اپنے ایک مضمون بعنوان "عالم اسلامی میں میرے آقا کے تذکرے" میں اپنی بعض یادداشتیں درج کی ہیں اس کا ایک حصہ ہم ذیل میں انہی کے قلم سے نقل کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ادنیٰ خادم شاہی دربار میں دسمبر 1929 ء میں میں بغداد میں تھا۔اس وقت عراق کے تخت پر عالم اسلام کا مشہور مد بر اور بہادر بادشاہ فیصل حکمران تھا۔فیصل کی زندگی اور اس کی تاریخ انقلابات کے صفحات سے پر ہے۔وہ پتلا دبلا نحیف الجثہ انسان تھا۔مگر اس کی نظر دور بین تھی۔اور اس کا فکر نکتہ رس تھا۔اس نے نہ صرف اپنی ذات میں انقلاب پیدا کیا۔بلکہ عالم اسلامی میں وہ انقلاب پیدا کیا جس کی یاداب تاریخ سے مٹ نہیں سکتی وہ ایسا انسان تھا جس نے آن واحد میں شام کی سلطنت کھو کر عراق کی سلطنت حاصل کر لی اور اپنے تدبر سے ایک مردہ قوم کو زندہ قوموں کی صف میں لا کھڑا کردا۔جنوری کا مہینہ تھا بغداد میں سخت سردی پڑ رہی تھی ہاتھ ٹھٹھر رہے تھے اور بارشیں بھی ہو رہی تھیں۔بادشاہ نے مجھے باریابی کا موقع دیا۔بادشاہ کا دیوان قصر سے دور تھا۔اس دن سردی اور بارش اتنی تیز تھی کہ میں یقین کرتا تھا کہ آج بادشاہ اپنے ایوان میں نہیں آئیں گے 9 بجے میں دیوان پہنچا۔معلوم کرنے سے معلوم ہوا کہ شاہ آٹھ بجے سے بھی پہلے آگئے تھے۔مجھے