مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 236 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 236

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 220 سے کہا کہ آپ امیر فیصل گورنر مکہ سے (جو سلطان ابن سعود کا صاحبزادہ ہے مل کر گفتگو کریں۔امیر فیصل سے بھی مجھے لندن میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا ، اور وہاں ہی ان کا دفتر تھا چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے ملاقات کا انتظام کر دیا۔اور اس میں ذرا بھی دیر نہ لگی۔مجھے یہ بات حکومت سعودی کی بہت پسند آئی کہ وہاں ارکان دولت نہایت بے تکلفی اور سادگی۔ملتے ہیں۔ނ امیر فیصل نہایت اخلاق سے پیش آئے۔اور انہوں نے قہوہ پیش کیا۔رسمی گفتگو کے بعد اصل موضوع پر سلسلہ کلام شروع ہوا۔میں نے ان کو جذباتی رنگ میں اپیل کی اور کہا کہ مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو محبت رکھتے ہیں اس محبت کا تقاضا ہے کہ جن مقامات کو حضور کے نام سے نسبت ہے ان کی خرابی وہ برداشت نہیں کر سکتے۔امیر فیصل نے مجھ سے یہ کہا کہ ان مقامات کو اس لئے پیوند زمین کر دیا گیا ہے کہ لوگ یہاں مشرکانہ حرکتیں کرتے تھے۔میں نے کہا ان کا انسداد ان مقامات کے بقاء کے ساتھ دوسرے رنگ میں بھی ہوسکتا تھا۔آخر آپ کے ہاں دوسرے اعمال غیر مشروع یا معصیت کے لئے سزائیں مقرر ہیں۔میرے سلسلہ دلائل میں انہیں قوت معلوم ہوئی تو بالآخر انہوں نے کہا کہ دراصل یہ امر مشتبہ ہے کہ یہ مقام فی الواقعہ مولد النبی ہے بھی یا نہیں۔اس پر میں نے کہا کہ : اس مقام کو زمانہ دراز سے مولد النبی قرار دیا گیا، اور صدیوں پیشتر سے لوگ اسے مولد النبی کہتے ہیں تو پھر یہ مشکوک کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ اگر یہ فرض کر لیا جاوے کہ مشکوک ہے تو آپ کا پہلا فرض یہ تھا کہ ایک کمیٹی تاریخ دان علماء کی مقرر کرتے اور وہ اصل مقام کی تحقیقات کرتی اور اسے محفوظ قرار دیتی۔آج تو لوگ معمولی آثار قدیمہ کی تحقیقات میں بڑا وقت اور روپیہ صرف کرتے ہیں، اس مقام کے ساتھ تو ساری دنیا کے مسلمانوں کی کو عقیدت وابستہ ہے، گرانے میں جلدی کی گئی۔امیر فیصل نے کہا: اس کے سوا کوئی اور چارہ نہ تھا۔میں نے کہا : یہ عذر صحیح نہیں ہے۔اس کا چارہ کار یہ تھا کہ حکومت اس مقام پر ایک شاندار عمارت تعمیر کرتی۔اور روئے زمین کے مسلمان اس میں حصہ لیتے اور اس میں سیرۃ النبی کا ایک دفتر قائم کیا جاتا۔دنیا کے تمام زبانوں میں سیرۃ النبی پر جو کتا ہیں لکھی گئی ہیں ان کی