مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 235 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 235

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اوّل 219 جانے والا پڑھ کر اپنا ایمان تازہ کرتا۔کچھ شک نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پرستی سے اپنی امت کو ڈرایا تھا اور آخری وقت میں بھی آپ کو یہ خیال تھا۔لیکن محض اس خوف سے ان مقدس ہستیوں کے نشانات گور تک مٹادینا میرے نقطۂ نظر سے نہایت ہی زبوں امر ہے۔میں نے محسوس کیا کہ ان مزاروں پر انسان تعلق ا کے قلب میں ایک نور سکینت نازل ہوتی ہے۔اللہ تعالی کے ملائکہ کا ان مقامات سے ایک تو ہوتا ہے اور انسان جب ان کے کارناموں پر ( جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں انہوں نے سرانجام دیئے ) غور کرتا ہے تو انسانی قوت عمل میں ایک تحریک ہوتی ہے اور وہ تحریک نیکی اور سعادت کی تحریک ہوتی ہے۔یہی ثبوت ہے اس امر کا کہ ان مقامات سے ملائکہ کا تعلق ہوتا ہے۔اب بھی ضرورت ہے کہ ان تمام قبور پر کتبے لگا دیئے جاویں۔میں نہیں کہتا کہ ان پر قبے بنادیئے جائیں یا عظیم الشان عمارتیں تعمیر ہوں۔اس خصوص میں میرا اپنا نقطہ نظر دوسرا ہے۔اور میں مناسب احاطوں اور سامان حفاظت کو ضروری سمجھتا ہوں۔لیکن اگر حکومت سعودی کا مذہبی تخیل اور ہو تو کم از کم ان قبور کے نشان قائم کر کے ان پر کتے لگوا دینے چاہئیں۔مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم (یعنی جائے پیدائش سرور دو عالم ) پر میں ایک روز اس مقام پر گیا جس کو لوگ کہتے ہیں کہ یہ مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اس جگہ کو بھی اس وقت (1927ء) میں ویران کر دیا گیا تھا پہلے جو عمارت تھی وہ گرادی گئی تھی۔میں نے دیکھا کہ وہاں اونٹوں اور گدھوں کا اڈا ہے۔اور اس مقام کی صفائی کا بھی چنداں خیال نہیں۔ایک درخت تھا جو بہت ہی قریب زمانہ کا تھا۔مگر میں نے دیکھا کہ بعض لوگ اس کی درخت کے ساتھ لپٹتے اور اظہار محبت اس تصور کے ساتھ کرتے کہ یہ اس مقام پر ہے جس کو ہمارے آقا اور محسن کی ولادت کا شرف حاصل ہے۔میں نے حسرت کے ساتھ اس نظارہ کو دیکھا اور میں نے عزم کر لیا کہ سعودی حکومت سے اس کے متعلق گفتگو کروں گا۔امیر فیصل سے ملاقات دوسرے دن میں اس وقت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبد اللہ والوقی ( جن سے لندن میں میری ملاقات ہوئی تھی ملنے کے لئے گیا اور اس روحانی اذیت کا تذکرہ کیا۔انہوں نے مجھ