مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 230 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 230

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 214 مقامات مقدسہ پر گولہ باری اور جماعت احمدیہ کا کلمہ حق ہندوستان میں یہ دلخراش خبر پہنچی کہ محمد بن عبد الوہاب کے معتقدین کی گولہ باری سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر کے گنبد کو نقصان پہنچا جس سے گنبد میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔مسلم کونسل کے صدر اعلیٰ کی طرف سے تار آیا کہ صحیح خبر یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر گولہ باری نہیں کی گئی البتہ اس کے گنبد پر گولیاں لگی ہیں۔اس پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے 4 ستمبر 1925 ء کو رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے خطبہ جمعہ میں فرمایا: ”یہ تو مانا نہیں جا سکتا کہ نجدیوں نے جان بوجھ کر روضہ مبارک ، مسجد نبوی اور دیگر مقامات مقدسہ پر گولے مارے ہوں گے، کیونکہ آخر وہ بھی مسلمان کہلاتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، اور آپ کی عزت و توقیر کا بھی دم بھرتے ہیں۔لیکن باوجود ان سب باتوں کے جو کچھ ہوا ہے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ گو انہوں نے دیدہ دانستہ مقامات مقدسہ کو نقصان نہ پہنچایا ہومگر ان کی بے احتیاطی سے نقصان ضرور پہنچا گومیں سمجھتا ہوں کہ قبے بنانے ناجائز ہیں مگر ہر جگہ نہیں بلکہ ضرورت کے وقت جائز ہیں۔اگر ان سے مراد قبر کی حفاظت نہیں تو نا جائز ہیں مگر خواہ کچھ ہی ہو ان کا یہ کام نہیں کہ ان کو توڑیں۔اس معاملہ میں ہم نجدیوں کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں کہ قبے بلا ضرورت بنانے ناجائز ہیں اور شرک میں داخل ہیں۔لیکن اس معاملہ میں ہم ان کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے کہ ان کو توڑنا اور گرانا بھی د درست ہے۔۔۔ہماری ان باتوں کو دیکھ کر