مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 225
66 213 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول آمدید کہیں اور یقین دلائیں کہ جماعت احمد یہ پوری طرح ان کے ساتھ ہے اور دعا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو کامیابی عطا کرے اور تمام عرب ممالک کو کامیابی کی راہ پر چلائے اور ان کو عالم اسلامی کی لیڈرشپ عطا کرے، وہ لیڈرشپ جو ان کو اسلام کی پہلی صدیوں میں حاصل تھی۔“ اس کے علاوہ حضرت مولانا شمس صاحب نے جماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے برطانوی مد برین کو کھلے الفاظ میں بتایا کہ عربوں کے مطالبات پورے کئے جائیں۔نیز آپ نے عربوں کی کامیابی اور امت مسلمہ کی بہتری اور بہبودی کے لئے مزید دعائیں کیں اور عربوں کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔اس کے بعد سعودی عرب کے حافظ وھبہ نے شاہ فیصل کی طرف سے جوابی تقریر کی جس میں شکریہ کے علاوہ پورے عالم اسلامی کی یگانگت اور اتحاد پر زور دیا۔رخصت ہونے سے پہلے شاہ فیصل اور دیگر عرب نمائندگان سے تمام انگریز نو مسلموں کا تعارف کرایا گیا اور ایک نومسلم مسٹر عبد الرحمن ہارڈی کی ساڑھے تین سالہ بچی نے انہیں کلمہ شریف لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ اپنے مخصوص اور معصومانہ لہجہ میں کئی بار سنایا اور بعض مہمانوں سے انعام حاصل کیا۔شاہ فیصل نے روانگی سے قبل احمد یہ دار التبلیغ کی وزیٹنگ بک پر جواب تک لندن مشن میں موجود ہے اپنے قلم سے ذیل کے الفاظ لکھے: لإثبات عنديتى وشكرى لحضرة الإمام وإعجابي بذكائه اپنے مؤقف کے اثبات کے لئے اور محترم امام صاحب کے شکریہ نیز امام صاحب کی فہم 66 وذکاء پر خوشی کے اظہار کے لئے۔“ ( روح پرور یادیں صفحہ 188 تا 191۔لاہور 1980ء ، مجلۃ البشری شماره صفر 1385 ھ صفحہ 27 تا 34 ) 1944ء میں شاہ فیصل اور شاہ خالد برطانیہ تشریف لائے اور ایک ہوٹل میں ریسیپشن دی جس میں مولوی صاحب بھی شریک ہوئے اور یوں ان سے ایک دفعہ پھر ملاقات ہوئی۔ملخص از الفضل 4/فروری 1944ء) 00000