مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 224 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 224

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 212 اس دعوت کے حالات کا بیان مکرم مولا نا محمد صدیق صاحب امرتسری ” مؤلف روح پرور یادیں کی زبانی ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔خاکسار اس زمانہ میں حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے ساتھ بطور نائب امام مسجد متعین تھا۔اس تقریب کے موقعہ پر محترم کرنل عطاء اللہ صاحب مرحوم آف لاہور، محترم میر عبد السلام صاحب مرحوم آف سیالکوٹ اور خاکسار احمد یہ دار التبلیغ سے باہر گیٹ پر معزز مہمانوں کے استقبال کے لئے مامور تھے۔شاہ فیصل اور ان کے ساتھیوں کی آمد پر مولا نائٹس صاحب خود بھی ان کے خیر مقدم کے لئے آگئے۔اور دیگر مہمانوں کے تشریف لے آنے تک انہیں کچھ دیر کے لئے احمد یہ دار التبلیغ کے ڈرائنگ روم میں ہی بٹھایا گیا۔چونکہ مولانا شمس صاحب اور خاکسار کے علاوہ ان کے ساتھ عربی میں گفتگو کرنے والا اس وقت وہاں اور کوئی موجود نہیں تھا اسلئے دوران کا نفرنس خاکساران کے ساتھ رہا اور حضرت مولانا صاحب دیگر امور میں مصروف رہے۔کانفرنس کے افتتاح سے پہلے حضرت شمس صاحب نے انہیں مسجد دیکھنے کی دعوت دی۔چنانچہ مع تمام مہمانان شاہ فیصل نے مسجد فضل دیکھی اور اندر محراب کے قریب چند منٹ کھڑے رہ کر حضرت شمس صاحب سے مسجد کے حالات سنتے رہے اور کہنے لگے۔میں تو سمجھ رہا تھا کہ چھوٹی سی مسجد ہوگی۔یہ تو خاصی بڑی مسجد ہے۔غالباً آپ نے بعد میں اس کی توسیع کی ہے۔مولانا شمس صاحب نے بتایا کہ نہیں یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ابتدا ہی سے بڑی بنائی گئی ہے۔دیگر نمائندگان اور مہمان بھی مسجد اور دار التبلیغ دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔اس موقع پر حضرت مولانا شمس صاحب نے شاہ فیصل کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کی بعثت مطلع کرتے ہوئے حضور کی کتاب من الرحمن اور التبلیغ اور بعض دیگر عربی کتب خوبصورت جلدوں میں بطور ہد یہ پیش کیں اور فرمایا: بارك الله في مساعيكم کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر دو انگریز نو مسلموں مسٹر بلال محل اور عبد الرحمن ہارڈی نے تلاوت کی جس کے بعد حضرت مولانا صاحب نے عربی میں خیر مقدم ایڈریس پیش کیا۔ایڈریس کے آغاز میں سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا عرب مندوبین کے نام مندرجہ ذیل پیغام پڑھ کر سنایا گیا: میری طرف سے ہر رائل ہائینیس امیر فیصل اور فلسطین کانفرنس کے دیگر نمائندگان کو خوش