مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 223 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 223

211 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول میں راز کیا ہے۔ان مضامین کا ہیڈنگ ہی یہ ہوتا تھا کہ راز کیا ہے۔جب کئی روز تک کی بڑے زور سے آرٹیکل پر آرٹیکل نکلے کہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے امیر فیصل یہاں پہنچ کر افتتاح مسجد سے رک گیا ہے تو وہاں لوگوں میں اور بھی ہیجان پیدا ہوا کہ چلو اس مسجد کو تو چل کر دیکھیں کہ جس کے افتتاح کے لئے امیر فیصل مکہ سے یہاں پہنچا اور یہاں آ کر اس کے افتتاح سے رک گیا۔دراصل یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی اس منشاء کے ماتحت ہوا کہ ہمارے سلسلہ کی شہرت بھی ہو جائے اور پھر احسان بھی کسی کا نہ ہو۔“ (انوار العلوم جلد 9 ص 415 تا 416 ) نیز فرمایا: آج مسجد لندن کے متعلق ایک اور شہادت ملی ہے کہ ولایت کے ایک بڑے آدمی نے لکھا ہے کہ ابن سعود نے ایک نادر موقع ہاتھ سے کھو دیا۔اس کے لئے موقع تھا کہ وہ یہ دکھا تا کہ اس کا تعلق اس جماعت سے ہے جو اسلام کو خوبصورتی کے ساتھ پیش کرتی ہے۔“ (انوار العلوم جلد 9 ص 444 )۔شاہزادہ فیصل کی مسجد فضل لندن میں آمد ماہ فروری 1939 ء میں برطانوی حکومت نے قضیہ فلسطین کے کسی مناسب حل کی تلاش کے لئے لندن میں عرب ممالک کی ایک کا نفرنس منعقد کی جس میں فلسطین ، عراق ، یمن ، سعودی عرب، مصر، شام، اردن وغیرہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔جماعت احمد یہ یہودیوں کے مقابل پر ہمیشہ عربوں کا ساتھ دیتی رہی ہے۔چنانچہ حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس جو ان دنوں میں مبلغ سلسلہ احمدیہ انگلستان کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے تھے ) نے اس موقعہ پر مسجد فضل لندن میں عرب ممالک کے تمام نمائندوں کے اعزاز میں ایک پارٹی دی جس میں ولی عہد امیر فیصل، حکومت سعودی عرب کے نمائندہ الشیخ ابراہیم سلیمان رئیس النيابة العامۃ اور الشیخ الحافظ وھبہ سفیر سعودی اور فلسطین کے نمائندگان عون بک الہادی ، القاضی علی العمری ، اور القاضی محمد الشامی وغیرہ مندوبین کے علاوہ مختلف ممالک کے سفراء ، لندن شہر کے اکابر ، ممبران پالیمنٹ اور کئی ایک جرنیل اور دوصد کے قریب دیگر بڑے اہل منصب انگریز شامل ہوئے۔