مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 220 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 220

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 208 شاہزادہ فیصل کو مسجد فضل لندن کے افتتاح کی دعوت چند صفحات قبل مولانا شمس صاحب کے مصری جریدہ میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں مسجد فضل لندن کی افتتاحی تقریب میں شاہزادہ فیصل کی شرکت کے بارہ میں کچھ وضاحت آئی تھی۔قارئین کرام کو اشتیاق ہوگا کہ اس پورے قصہ کی تفاصیل سے آگاہی حاصل کریں۔گو کہ اس کے بعض حصے 1939 ء کے ہیں لیکن چونکہ تمام واقعات کا مسجد فضل لندن اور مولانا شمس صاحب سے براہ راست تعلق ہے اس لئے ہم قارئین کرام کے لئے انہیں یہیں پر ہی یکجائی صورت میں درج کر دیتے ہیں۔جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے 1924 ء میں اپنے سفر ولایت کے دوران مسجد فضل لندن کی بنیاد رکھی مگر چونکہ اس وقت بعض ضروری سامان مہیا نہیں ہو سکے تھے اس لئے مسجد کی بقیہ تعمیر کچھ عرصہ تک ملتوی رہی۔بالآ خر 1925ء میں اس کا کام شروع کیا گیا اور 1926ء میں یہ خدا کا گھر اپنی تکمیل کو پہنچا۔اس وقت حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب در دایم اے لندن کے دار التبلیغ کے انچارج تھے۔درد صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی ہدایت کے ماتحت عراق کے بادشاہ فیصل سے درخواست کی کہ وہ اپنے لڑکے زید کو اجازت دیں کہ وہ ہماری مسجد کا افتتاح کریں اور جب اس کے جلد بعد شاہ عراق خود یورپ گئے تو ان سے تحریک کی گئی کہ اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ خود مسجد کے افتتاح کے لئے تشریف لائیں۔مگر انہوں نے اس درخواست کو ٹال دیا۔اس کے بعد سلطان ابن سعود بادشاہ حجاز کی خدمت میں تار دی گئی کہ وہ اپنے کسی صاحبزادہ کو اس کام کے لئے مقرر فرمائیں اور انہوں نے