مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 216 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 216

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول بلا دعر بیہ میں جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد 204 3 اپریل 1931ء میں مولانا شمس صاحب نے کبابیر میں ” جامع سیدنا محمود کی بنیاد رکھی جو بلاد عربیہ میں پہلی احمد یہ مسجد ہے۔مسجد کی چھت ڈالنا باقی رہ گئی تھی کہ آپ واپسی کے لئے مصر روانہ ہو گئے۔اس مسجد کی تعمیر میں کہا بیر کے سب احمدی مردوں عورتوں اور بچوں نے حصہ لیا۔اس کے بارہ میں حضرت مولوی صاحب فرماتے ہیں : میں نے 14 شوال کو ایک مسجد بنانے کے لئے تحریک کی جسے دوستوں نے قبولیت بخشا۔اسی وقت مشتر کہ زمین میں سے مسجد کے لئے قطعہ تجویز کیا گیا۔مسجد کی عمارت کے لئے تین ہزار پتھروں کا اندازہ لگایا گیا جو اسی وقت دوستوں نے حصہ رسدی سے پیش کرنے کا وعدہ کی کیا۔چنانچہ بہت سے پتھر تیار ہو چکے ہیں۔معمار بھی انہی میں سے ہیں جو مفت تعمیر کا کام کریں گے۔سیمنٹ اور لو ہے اور دروازوں وغیرہ کے لئے ستر پونڈز کا تخمینہ لگایا گیا جس کے لئے میں نے شام و حمص وغیرہ میں بعض دوستوں کو بذریعہ خطوط چندہ کے لئے تحریک کی۔۔۔چنانچہ انہوں نے نہایت اخلاص و قربانی کا نمونہ دکھایا اور باوجود غریب ہونے کے اپنی استطاعت سے بڑھ کر چندہ دیا۔بلا د عربیہ میں احمدی جماعت کی یہ پہلی مسجد ہوگی۔اللہ تعالٰی اسے باعث نشر ہدایت بنائے۔اور جیسا کہ یہ مسجد بلند جگہ پہاڑی پر ہوگی ویسے ہی اسے احمدیت کی اشاعت کے لئے ایک مضبوط چٹان کی طرح قرار دے۔یہ مسجد 36 فٹ لمبی اور 30 فٹ چوڑی ہوگی۔اور اس کے آگے صحن ہو گا۔ایک برساتی کنواں بھی تیار کیا جائے گا۔نیز احمدی مہمانوں کے لئے اس کے قریب ایک کمرہ بنانے کی بھی تجویز ہے۔جس کمرہ میں پہلے نمازیں پڑھتے ہیں اس میں احمدی بچے تعلیم پائیں گے۔(الفضل 3 2 اپریل 1931 ء صفحہ 2) کہا بیر میں ایک معمر معمر شخص الحاج عبد القادر نہایت مخلص احمدی ہیں باوجود یکہ ان کی عمر 100 برس کے قریب ہے وہ تمام نمازیں باجماعت ادا کرتے ہیں۔چند روز ہوئے مستری نے انہیں بقیہ قیمت 20 پونڈ دے دی تو وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے : ہم تو اب دنیا میں ایک دو روز کے مہمان ہیں اس لئے میری خواہش ہے کہ یہ روپیہ مسجد کی تعمیر میں خرچ کر دیا جائے۔اور ہو سکے تو برساتی کنواں مسجد کے ساتھ تیار کیا جائے گا وہ میرے خرچ سے ہو۔اس