مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 215
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 203 پھر اس نے کہا وہ حیفا میں آیا اور ایک سال سے زیادہ وہاں ٹھہرا۔اور وہاں بھی 50 کے قریب احمدی ہوئے اور اب مصر میں وہ اسی غرض سے آیا ہے۔میں نے اس سے پوچھا: کیا تمہیں یقین ہے کہ تمام لوگ احمدی ہو جائیں گے۔اس نے کہا: ضرور، ہماری تبلیغ اور دعوت روئے زمین پر پھیل جائے گی۔میں نے کہا: اس بات کے لئے تمہارے پاس کیا دلیل ہے؟ اس نے جھٹ ایک الہام جو پیشگوئی پر مشتمل ہے جومرزا احمد امیج پر نازل کیا گیا ہے سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ عنقریب وہ تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچائے گا۔میں نے کہا: کیا تم اس پیشگوئی پر کامل یقین رکھتے ہو؟ اس نے کہا: بے شک۔احمد امسیح کی کوئی ایسی پیشگوئی نہیں جو پوری نہ ہو۔کیونکہ جو کچھ اس نے کہا اور جس کا دعویٰ کیا ہے ہم اس پر صدق دل سے ایمان رکھتے ہیں کہ یہ پیشگوئی عنقریب پوری ہوگی اور تمام لوگ اپنے رب اور اس دین حق کو پہچان لیں گے جسے حضرت عیسی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم لائے۔اور جس کی احمد امسیح نے اشاعت کی۔اس مذہب ( فرقہ احمدیہ ) نے آج کل تمام دنیا سے مذہبی جنگ چھیٹر رکھی ہے اور یہ لوگ انگلستان فرانس، امریکا، ایشیا اور افریقہ کے بہت سارے ممالک میں پائے جاتے ہیں۔یہ لوگ مسلمانوں اور عیسائیوں کو اپنا مذہب قبول کراتے رہتے ہیں۔ان کی ایک منظم اور ترقی کرنے والی جماعت ہے اور یہ جماعت امید رکھتی ہے کہ وہ لوگوں میں سے تعلیم یافتہ طبقوں اور اکثر متمدن ممالک کو اپنی طرف کھینچ لے گی۔الفضل 4 را پریل 1930 ء صفحہ 9-10 بحوالہ خالد احمدیت جلد اوّل صفحہ 215 تا 221 ) بلاد عربیہ میں مدرسہ احمدیہ کا قیام حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے 1930ء میں حیفا میں مدرسہ احمدیہ کے نام سے ایک مکتب جاری کیا۔جس کی ابتداء میں الشیخ المغر بی صاحب (جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے) نے لڑکوں اور لڑکیوں کو قرآن کریم پڑھانا شروع کیا۔جس کا باقاعدہ افتتاح مولانا ابو العطاء صاحب نے یکم جنوری 1934ء کو کیا۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 5 صفحہ 501