مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 211 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 211

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 199 کی خدمت کریں۔مولوی صاحب نے فرمایا : کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم یہاں نہ آئیں۔ہم ہے آپ سے یہیں جہاد کریں گے۔اس جواب پر پادری صاحب خاموش ہو گئے اور جب لیکچر کے کھڑے ہوئے تو انہوں نے اپنا موضوع چھوڑ کر انجیل کی تقریر شروع کر دی اور کسی کو گفتگو کا (الفضل 2 / دسمبر 1930 ءصفحہ 7-8 ) موقع نہ دیا۔سوڈان میں تبلیغ حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب کے قیام مصر کے دوران ہی سوڈان کے ایک تعلیم یافتہ دوست جو تبدیلی آب و ہوا کے لئے مصر آئے ہوئے تھے احمدیت میں داخل ہو گئے۔یوں سوڈان میں بھی احمدیت کا پودا لگ گیا۔وطن واپس جاتے ہوئے وہ سلسلہ کا کچھ لٹریچر ساتھ لے گئے۔پھر انہوں نے مولانا جلال الدین صاحب کو اطلاع دی کہ تعلیم یافتہ طبقہ احمدیت کو دل میں قبول کر رہا ہے لیکن مشائخ سے مرعوب ہیں۔(ماخوذ از رپورٹ سالانہ 31-1930 ، صفحہ 5 مصر کے ایک عربی مجلہ میں حضرت مولانا شمس صاحب کا ذکر مصر الحديثة المصورة ني رسول أحمد المسیح کے عنوان سے ایک مصری صحافی کا مولانا شمس صاحب کے متعلق اپنی 19 فروری 1930 ء کی اشاعت میں ایک مضموا شائع کیا۔جس کا اردو ترجمہ الفضل سے ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔اخلاقی لیکچر سننے کے لئے میں ایک ادبی مجلس میں حاضر ہوا جس میں مختلف بلاد کے ہر قسم کے لوگ شریک تھے۔جلسہ کے بعد جب حاضرین مجلس نے ایک دوسرے سے تعارف کیا تو امریکن لیڈی نے قریب ہو کر سلام کرتے ہوئے ایک رجل ہندی پنجابی کی طرف مصافحہ کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا۔اس نے سلام کا جواب تو نہایت اچھے الفاظ میں دیا لیکن اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اس لیڈی کے ساتھ مصافحہ کرنے سے قطعاً انکار کیا۔ہماری حیرانی کی کوئی حد نہ رہی جب ہم نے ایک مشرقی کو دیکھا کہ وہ ایک امریکن خاتون سے مصافحہ کرنے سے انکار کرتا ہے کیونکہ ہم نے یہ واقعہ مصر جیسے متمدن ملک میں اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا۔زیادہ حیرانی اس بات سے ہوئی کہ یہ پنجابی نوجوان نہ تو متعصب ہے، نہ علوم مروجہ سے نا آشنا۔بلکہ ایک