مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 209 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 209

197 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول زیادہ اس کی سبکی ہوئی اور دلائل و براہین اسلامی نے اس کے چھکے چھڑا دئیے۔اور اسے ایسا مبہوت کیا کہ اس نے دوبارہ درخواست کی کہ بقیہ مناظرہ آئندہ پر ملتوی کیا جائے۔ہم نے یہ درخواست منظور کر لی۔لیکن تیسری مرتبہ جب ہم آئے تو بجائے مناظرہ کرنے کے اس نے کہا که شمس صاحب احمدی مناظر ہیں اور مسلمان احمدیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے اس لئے میں احمدی مناظر سے بحث کرنے کے لئے تیار نہیں۔مولانا جلال الدین شمس صاحب نے فرمایا: تم عیسائیت کے وکیل ہو اور میں اسلام کی طرف سے مدافعت کرتا ہوں۔جب میں نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ تمہیں باقی عیسائی فرقے عیسائی قرار دیتے ہیں یا نہیں، تو پھر تمہیں کہاں سے یہ حق پہنچتا ہے کہ مجھ پر یہ اعتراض کرو۔اس کا سوائے اس کے اور کوئی مطلب نہیں کہ تم مناظرہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے اور اسلامی دلائل سے عاجز آ کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہو۔لیکن اس طرح غیرت دلانے کے باوجود بھی اسے مناظرہ جاری رکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔مسلمان حاضرین نے پر جوش تالیوں سے عیسائی پادری کی شکست اور اسلامی مبلغ کی فتح کا اعلان کیا۔اور کئی منٹ تک اپنی تالیوں سے میدان مناظرہ کو گرمائے رکھا۔اس کے بعد شمس صاحب نے اس موضوع پر ایک پمفلٹ بنام تحقیق الادیان‘ رمضان 1348ھ بمطابق فروری 1930ء میں شائع کیا گیا۔مباحثہ کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ بہت سے مصری نوجوان جو عیسائیت کے اوہام کے شکار ہو رہے تھے پھر سے اسلام پر پختہ وگئے۔انہی نوجوانوں میں عبد الحمید خورشید آفندی بھی تھے جو مصر کے پہلے احمدی بنے جو اس مباحثہ میں آپ کے دلائل و براہین سے اتنے متاثر ہوئے کہ احمدی ہو کر عیسائیوں کا مقابلہ کرنے لگے۔ازاں بعد احمد حلمی صاحب احمدی ہوئے۔مآخذ ر یویو آف ریجنز اردو جنوری 1947ء مکرم طه قزق صاحب کی یادیں، کہا بیر، بلادی از عبد الله اسعد صاحب، تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ (527) ہو۔مجھے کچھ نہیں آتا مصر میں قیام کے دوران کی مساعی کے بارہ میں حضرت مولانا جلال الدین شمس فرماتے ہیں: