مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 201 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 201

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 189 جب خدا تعالیٰ کے فضل سے کہا بیر میں احمدی پریس کا قیام عمل میں آیا تو اس وقت بجلی کی تی سہولت تو میسر نہ تھی تمام کام ہاتھ سے ہی سرانجام دیئے جاتے تھے۔اس سلسلہ میں مکرم الحاج المغر بی صاحب نے اپنی خدمات پیش کیں اور 1935 سے لیکر 1953 تک مسلسل 18 سال تک یہ کام کرتے رہے۔آپ صوم وصلاۃ کے پابند تھے روزانہ دو بجے رات کو جاگ جاتے تھے اور تہجد ادا کیا کرتے تھے۔اور باوجود مالی حالات کی خرابی کے مکمل پابندی کے ساتھ چندہ ادا کرتے تھے۔18 دسمبر 1960ء کی رات آپ نے تہجد کی نماز ادا کی اور نماز فجر کا انتظار فرما رہے تھے کہ آپ کی وفات ہو گئی۔یوں آپ پر بوقت وفات بھی اس مؤمن کی مثال صادق آئی کہ جس کا دل مسجد میں اٹکا رہتا ہے۔(ماخذ تاریخ احمدیت ج 4 ص 526 مجلۃ البشری جنوری، فروری 1937 ء ص 52 تا 53 ، الفضل ۱۳، اگست 1928 ء ص 7 بحوالہ خالد احمدیت جلد اول ص 204 تا 205 ، تابعین اصحاب احمد جلد اول صفحہ 80 تا 93) شیخ سلیم بن محمد الربانی، پاک تبدیلی کا شاندار نمونہ آپ ایک ایسے گاؤں کے باشندہ تھے جو ایام جاہلیت کا نمونہ تھا اور تمام فلسطین میں بلحاظ چوری ڈکیتی اور آپس میں لڑائیوں جھگڑوں کے لئے بدنام تھا۔احمدیت قبول کرنے کے بعد جب بستی کے لوگوں نے شیخ ممدوح کی سخت مخالفت کی تو انہوں نے نہایت صبر و استقلال سے ان کی مخالفت کا مقابلہ کیا اور دیوانہ وار تبلیغ میں مصروف رہے۔اعلانیہ طور پر مساجد میں جا جا کر علیحدہ نمازیں پڑھتے رہے۔کوئی اعتراض کرتا تو نہایت نرمی سے کہتے کہ مسیح موعود دوسرے لوگوں کی اقتداء کرنے کے لئے نہیں آئے بلکہ وہ اس لئے آئے ہیں تا دنیا کے لوگ ان کی اقتداء کریں۔ان کے وہاں کئی مباحثے ہوئے ایک مباحثہ میں تقریبا تین سو کی حاضری تھی اور بالمقابل از ہر کا تعلیم یافتہ شیخ تھا۔دوران مناظرہ ایک شخص نے آپ کی گردن پر چپت لگائی۔ان کے رشتہ داروں نے فورا اس مارنے والے سے بدلہ لینا چاہا لیکن آپ نے روک دیا اور کہا کہ مجھ سے زیادہ کون شقی تھا ؟ میں چاہوں تو اس سے خود بدلہ لے سکتا ہوں۔مگر اس وقت صرف یہی کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائے۔(ماخوذ از رپورٹ مجلس مشاورت 1929 ، صفحہ 179 بحوالہ خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے حالات زندگی جلد اوّل صفحہ 238-239)