مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 200 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 200

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 188 مکرمہ میں آپ دن کا کچھ وقت کام کرتے تھے تا کہ کھانے کیلئے کچھ خرید سکیں جبکہ باقی تمام وقت عبادت اور ذکر الہی میں گزارتے تھے۔مکہ سے آپ یمن چلے گئے جہاں آپ سیدی محمد بن اور میں کی شاگردی اختیار کی جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل میں سے تھے۔سید محمد بن ادریس کی وفات کے بعد آپ نے وطن واپس جانا چاہا لیکن حالات کی خرابی کے باعث حیفا آگئے جہاں طیرہ نامی ایک علاقے میں ایک مسجد جامع الجرینۃ میں قیام فرمایا اور بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم کا کام شروع کر دیا۔3 جون 1928 ء کو مولانا شمس صاحب بعض دوستوں کے ہمراہ سیر کرتے ہوئے ( کہا بیر کے نیچے واقعہ ) وادی السیاح میں پہنچے جہاں ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی جس کا نام الحاج محمد المغربی الطرابلسی تھا۔معلوم ہوا کہ یہ بزرگ 23 سال سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لا چکے ہیں۔حضرت مولانا شمس صاحب ان کے بارہ میں بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بتایا: میں یمن میں امام محمد بن اور لیس امام یمن کے پاس تھا جو کابل سے امام محمد بن ادریس کے پاس چند کتابیں اس مدعی کی پہنچیں۔آپ نے دو کتابیں پڑھ کے علماء کے سپرد کر دیں اور کہا کہ یہ کام آپ کا ہے اس کے بارہ میں رائے ظاہر کریں، اور آپ نے خود اس کے متعلق کچھ نہ کہا۔پھر علماء میں اس کے متعلق اختلاف ہوا۔بعض کہیں کہ جو کچھ اس نے لکھا سچ ہے۔بعض کہیں کہ ایسی باتیں کہنے والا کافر ہے۔مگر میں استخارہ کر کے اور بعض خواہیں دیکھ کر آپ پر ایمان لے آیا۔چنانچہ میں اس وقت سے آپ کو امام الوقت مسیح موعود مانتا ہوں۔میں نے چھا کون سی کتابیں وہاں پہنچی تھیں ؟ انہوں نے کہا : ہم نے اس وقت چند عبارات حفظ کی تھیں۔جب انہوں نے عبارات سنائیں تو وہ الاستفتاء کی تھیں۔پھر انہوں نے قصیدہ اعجاز یہ کے شعر سنائے۔۔۔13 جولائی کو وہ میرے مکان پر جمعہ کی نماز کے لئے تشریف لائے تو نماز ادا کرنے کے بعد کہنے لگے: اگر چہ میں پہلے سے ایمان لایا ہوا ہوں مگر پھر آپ کے ہاتھ پر تجدید عہد کرتا ہوں۔تب وہ اور دو شخص اور ان کے ساتھ سلسلہ میں داخل ہوئے۔“ 1930ء میں جبکہ کہا بیر میں الحاج صالح عبد القادر عودہ نے اپنے خاندان سمیت احمدیت قبول کر لی تو الحاج المغربی بھی کہا بیر میں آگئے اور کہا بیر کے بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا۔اور مدرسہ کہا بیر قائم ہونے تک با قاعدہ یہ خدمت بجالاتے رہے۔