مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 197
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 185 لئے میں کمرے سے نکل گیا۔جب کچھ دیر کے بعد میرے والد صاحب اور چچا جان تشریف لائے اور کمرے میں گئے تو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ مولانا جلال الدین صاحب ستم ہیں۔پوچھنے پر بتایا کہ اس خط میں ان کے بھائی کی وفات کی خبر تھی۔حضرت مولا نا ئٹس صاحب کے حیفا میں مناظرے ہے حیفا میں مولا نائٹس صاحب کے شیخ کامل القصاب کے ساتھ مناظرے کا تو ذکر ہو چکا ہے یہ مباحثہ دو دن جاری رہا اور جب شیخ مذکور نے اپنی شکست محسوس کی تو عوام کو آپ کے خلاف بھڑ کا یا۔ان مخدوش حالات کے باوجود آپ برابر تبلیغی کوششوں میں مصروف رہے۔چنانچہ اپریل 1928 ء سے فروری 1929 ء تک آپ کے آٹھ پرائیویٹ مناظرے علماء سے، دو بہائیوں اور سات عیسائیوں سے ہوئے۔عیسائیوں کے ساتھ جو مناظرے ہوئے ان کا اثر مسلمانوں پر بہت اچھا ہوا۔اور مشائخ کے ساتھ جو مناظرے ہوئے ان میں سے پہلے مناظرہ میں مد مقابل عالم نے اپنی شکست محسوس کر لی۔اس لئے دوسرے مناظرہ میں شرائط مناظرہ کی خلاف ورزی کی جس کا نتیجہ فوری طور پر یہ ہوا کہ جو صاحب محرک مناظرہ تھے وہ احمدی ہو گئے۔ان کی بیعت پر مشائخ اور بھی زیادہ مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے۔اور تمام مساجد میں جمعہ کے دن جبکہ دیہات سے بھی سینکڑوں لوگ حیفا میں آئے ہوئے تھے سلسلہ احمدیہ اور آپ کے خلاف تقریریں کیں۔اس کا رد عمل یہ ہوا کہ سلسلہ سے ناواقف لوگ واقف ہو گئے۔اور جو واقف تھے وہ قریب تر ہو کر سلسلہ کے حالات کا مزید مطالعہ کرنے لگے۔فلسطین میں شمس صاحب کی مخالفت وسط 1929ء میں غیر احمدی علماء نے جماعت احمدیہ کی بڑھتی ہوئی ترقی دیکھ کر مخالفت تیز کر دی۔چنانچہ انہوں نے فلسطین کی المجلس الإسلامي الأعلیٰ سے ایک مبلغ شمس صاحب کے مقابلہ کے لئے بلوایا جس نے جمعية الشبان المسلمین اور دوسرے مقامی علماء کے ساتھ مل کر احمد یوں پر جبر و تشدد کرنا شروع کیا۔اس شور وشر کے تھوڑے عرصہ کے بعد یہودیوں اور مسلمانوں میں جھگڑا شروع ہو گیا اور ایک دوسرے کے خلاف مظاہرات کرنے لگے اور قتل کی وارداتیں شروع ہو گئیں۔اور معلوم ہو گیا کہ فسادی عصر آپ کے مکان پر حملہ