مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 196
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 184 آگئے تھے۔انہوں نے فلسطین میں ایک مدرسہ کھولا تھا جس پر اسلامی طرز عمل کی چھاپ تھی۔میں بھی اسی مدرسہ میں پڑھتا تھا۔اس میں نظم ونسق بہت اعلیٰ درجہ کا تھا اور سختی بہت ہوا کرتی تھی۔سکول ٹائم کے بعد بھی طلباء کے کئی دستے بازاروں میں راؤنڈ پر رہتے تھے اور اگر کسی طالبعلم کو خلاف ادب اور خلاف اخلاق حرکت کرتے ہوئے دیکھتے تو اگلے دن سکول میں اس کو سب کے سامنے بلایا جاتا تھا اور بعض اوقات ڈنڈے مارے جاتے تھے۔مدرسہ سے چھٹی کے بعد لڑ کے قطار میں نکلتے تھے اور جس کا گھر آ جاتا تھا وہ قطار سے نکل کر گھر میں داخل ہو جاتا تھا۔ایک دن ہم قطار میں جا رہے تھے کہ سامنے سے مولانا جلال الدین صاحب سمس آ گئے۔میرے ساتھ کے لڑکے نے انکو دیکھ کر گالی دی۔میں خاموش رہا۔جب میرا گھر آیا تو میں گھر میں داخل ہوتے وقت اس لڑکے کو بھی گھسیٹ کر اندر لے آیا اور اسے کہا کہ میں تمہیں جان سے ماردوں گا۔وہ مجھ سے معافیاں مانگنے لگ گیا۔چنانچہ میں نے اسے ایک ہلکا و ساطمانچہ مار کر چھوڑ دیا۔اس لڑکے نے میری شکایت شیخ کامل القصاب کے بیٹے سے کی جو کہ نہایت کرخت اور بہت سخت آدمی تھا۔اس نے مجھے بلایا اور جب میں پہنچا تو ناشتہ کر رہا تھا۔ناشتے سے فارغ ہو کر اس نے مجھ سے پوچھا کہ اس لڑکے کو کیوں مارا تھا ؟ میں نے کہا کہ اس نے میرے والد صاحب کے دوست کو گالی دی تھی۔اس نے پوچھا کہ کون ہے تمہارے والد کا دوست؟ میں نے کہا کہ احمدی مبلغ مولانا جلال الدین صاحب شمس۔اس پر اس نے میری توقع کے بالکل برعکس صرف اتنا کہا کہ ایسا دوبارہ نہیں کرنا اور جانے دیا۔مولا نا جلال الدین صاحب شمس کی دو باتیں خاص طور پر مشہور تھیں۔ایک یہ کہ انہیں جب بھی کسی قرآنی آیت کا حوالہ مطلوب ہوتا تھا تو وہ اکثر اسی جگہ پر مل جاتا تھا جہاں سے وہ قرآن کریم کھولتے تھے یا اس کے ایک دو صفحات اِدھر یا اُدھر۔دوسری بات یہ کہ وہ غیر معمولی حاضر جواب تھے۔بسا اوقات لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انہیں پوچھے جانے والے سوال کا پہلے علم تھا اس لئے تو اتنا مناسب اور جلدی جواب دے دیا ہے۔ایک دفعہ مولانا جلال الدین صاحب شمس ہمارے گھر تشریف لائے۔ان کے ہاتھ میں چند خطوط اور اخبار تھا۔میں نے انہیں ایک کمرے میں بٹھا دیا۔انہوں نے خط پڑھا اور و ہیں تخت پر ہی لیٹ گئے اور اخبار منہ پر رکھ لیا۔میں سمجھا کہ شاید آرام فرما ر ہے ہیں۔اس