مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 186
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اوّل 174 میری خوش قسمتی تھی کہ میرا تعارف حضرت ولی اللہ شاہ صاحب کے ذریعہ حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس سے ہو گیا۔چنانچہ میں اکثر اوقات ان کے پاس آتا جاتا رہتا تھا اور کئی ان امور دینیہ میں آپ کے ساتھ بات کرتا جن کا حل وہاں کے مولویوں کے پاس نہ تھا۔اور نتیجہ یہ ہوا تھا کہ ایسے امور نے نئی نسل کو فتنہ میں ڈال دیا تھا۔چنانچہ ان کے دلوں میں اسلام کے بارہ میں شکوک اور شبہات پیدا ہو گئے تھے۔لیکن میں ہر دفعہ مولا نائٹس صاحب نهایت تسلی بخش جواب پاتا تھا اور اسلام پر ہر اعتراض کا کافی وشافی رد ملتا تھا۔میں اکثر آپ کی اسلام کے دفاع میں گفتگو کے دوران محسوس کرتا تھا کہ جیسے قرآن کریم دوبارہ اس زمین پر (البشری مارچ 1936ء) نازل ہوا ہے“۔گو کہ مکرم منیر احصنی صاحب حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب سے شروع میں ہی متعارف ہو کر ان کے گہرے دوست بن گئے تھے ، اور بڑی کثرت سے آپ کے پاس آتے ہی جاتے تھے۔آپ کی زبان سے مسیح موعود علیہ السلام کے لائے ہوئے علم کلام کی قوت کا بھی اعتراف تھا ، پھر بھی احمدیت میں داخل ہونے کے لئے مزید تسلی چاہتے تھے۔اور یہ تسلی 1927ء میں اس وقت ہوئی جب مولانا جلال الدین صاحب شمس نے دمشق میں ایک تحریری مناظرہ ڈنمارک کے ایک مشہور پادری الفریڈ نلسن سے کیا جو بیس سال سے شام کے علاقہ میں عیسائیت کا کام کر رہے تھے اور شام کے عیسائی مشنوں کے انچارج تھے۔موضوع مناظرہ ما کہ کیا حضرت مسیح ناصری فی الواقعہ صلیب پر فوت ہوئے؟ اس مناظرہ میں حضرت مولانا شمس صاحب کے دلائل سن کر مکرم منیر احصنی صاحب احمدیت میں شامل ہو گئے۔چنانچہ آپ خود لکھتے ہیں: ” میرے قبول احمدیت کا سب سے بڑا سبب یہی مناظرہ تھا۔کیونکہ میں نے دیکھا کہ احمدی مبلغ کے دلائل و براہین لا جواب تھے۔مسیحی مناظر سے ان کا کوئی جواب نہ بن پڑا اور عزت وغلبہ اسلام نصف النہار کی طرح ظاہر ہو گیا۔عیسائی پادری اور مولانا شمس صاحب میں مناظرہ سے پہلے یہ معاہدہ ہوا تھا کہ اختتام مناظرہ پر پوری روئداد مناظرہ فریقین کے خرچ پر طبع کرائی جائے گی۔لیکن جب مناظرہ ہو چکا تو وہ اپنے عہد سے پھر گیا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ قبول حق کے لئے کھول دیا اور مجھے مسیح موعود کی جماعت میں داخل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 525)