مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 177 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 177

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 165 کہ دشمن بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔یہ عذاب استثنائی صورت رکھتا ہے اور بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک دمشق مخاطب ہو گیا ہے۔ان مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے شام کے مبلغین نے جو کام کیا وہ اس حد تک ہے کہ انہوں نے تبلیغ کو جاری رکھا اور وقت کو خطرات کی وجہ سے ضائع نہیں کیا۔پہلی خوبی تو ان کی یہ ہے کہ انہوں نے حالات کے اس قدر خطر ناک ہو جانے پر یہ نہ کہا کہ ہمیں تبلیغ کے لئے بھیجا گیا تھا نہ کہ میدان جنگ میں رہنے کے لئے اس لئے ہمیں واپس بلا لیا جائے۔یہی ان کی خوبی دین اور سلسلہ سے محبت کی دلیل ہے۔اور کئی ایک ایسے ہوتے ہیں جو کہہ اٹھتے ہیں کہ ہمیں جان کا خطرہ ہے ہمیں واپس بلا لو۔بہر حال ہمارے مبلغین نے جو کچھ ہو سکتا تھا کیا۔اور اب مولوی جلال الدین صاحب جس خطرہ میں کام کر رہے ہیں اس کی وجہ سے جماعت کو ان کی قدر کرنی چاہئے۔میرے نزدیک علاوہ اس اخلاص کے اظہار کے جوشام کے مبلغین نے کیا اور عین گولہ باری کے نیچے تبلیغ کی ، اس پر ہمارے دشمن بھی حیران ہیں۔اس بارہ میں بعض غیر احمدیوں سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے ہمارے مبلغین کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور کہا آپ ہی کے مبلغ کام کرنے والے لوگ ہیں جو کسی خطرہ کی پرواہ نہیں کرتے۔مجھے تعجب ہوگا اگر غیر احمدی تو ہمارے مبلغین کی قدر کریں مگر احمدی نہ کریں۔(الفضل 18 / جون 1926ء صفحہ 4 تا 7 بحوالہ خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے حالات زندگی جلد اول صفحہ 168 تا 170 ) علامہ المغربی کی عربی دانی حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں: ایک دن میں اور حضرت مولانا شمس صاحب دارالدعوۃ میں بعض دوستوں سے احمدیت کے بارہ میں باتیں کر رہے تھے کہ شیخ عبد القادر المغر بی مرحوم تشریف لائے اور بیٹھ کر ہماری باتیں سنیں۔اثنائے گفتگو میں استخفاف سے اپنی سابقہ ملاقات کا ذکر کیا اور جو مشورہ حضور کو دیا تھا اسے دہرایا اور مذاقاً کہا کہ الہامات کی عربی عبارت بھی درست نہیں۔میں نے خطبہ الہامیہ ان کے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ پڑھیں کہاں عربی غلط ہے۔انہوں نے اونچی آواز سے پڑھنا شروع کیا اور ایک دو لفظوں سے متعلق کہا کہ یہ عربی۔۔