مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 176
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 164 دمشق کے پہلے احمدی مکرم مصطفیٰ نو یلاتی صاحب تھے۔آپ علوی شیعہ تھے۔آپ کے والد صاحب ایک عارف باللہ انسان تھے۔ان کا اندازہ تھا کہ امام مہدی کا ظہور کسی مشرقی ملکی میں ہو چکا ہے۔چنانچہ وہ اپنے بعض ہم خیال دوستوں کے ساتھ امام مہدی کی تلاش میں ایران ، عراق اور افغانستان کے علاقوں تک بھی گئے لیکن انہیں امام مہدی کے بارہ میں کوئی خبر نہ مل سکی۔مصطفیٰ نو یلاتی صاحب کے والد صاحب کی امام مہدی سے ملاقات کی امید جب دم توڑنے لگی اور موت کا احساس دامنگیر ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے مصطفیٰ نو ملاتی صاحب کو بلایا ت اور انہیں چند سونے کی اشرفیاں دیں اور کہا کہ جب تم امام مہدی سے ملو تو انہیں میری طرف سے یہ اشرفیاں بطور چندہ دینا۔جب حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس دمشق تشریف لائے تو مصطفی نو یلاتی صاحب وہ پہلے شخص تھے جو بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے اور انہوں نے اپنے والد کی دی ہوئی اشرفیاں مولانا جلال الدین صاحب شمس کے حوالے کر دیں۔تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 252۔سلسلہ احمدیہ صفحہ 378-379 - مقالات وردود احمدیه از نذیر مرادنی صفحه 26-25 - مکرم طلا قزق صاحب آف اردن کی بلا د شام میں احمدیت کے بارہ میں غیر مطبوعہ یادداشتیں) دمشق پر اتمام حجت اور مبلغین کرام کی قابل ستائش مساعی 1925ء میں سیر یا پر فرانس کا قبضہ تھا۔ان دنوں میں جبل دروز سے سلطان باشا الأطرش کی سربراہی میں تحریک انقلاب اٹھی جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے شام میں پھیل گئی۔اس کے نتیجہ میں ملک میں جنگ کے حالات پیدا ہو گئے اور شام کی فرانسیسی حکومت نے دمشق پر مسلسل بمباری کر کے تباہی مچادی۔مگر ان ناموافق حالات میں بھی یہ دونوں مجاہد پیغام حق پہنچاتے رہے اور یکم اپریل 1926 ء تک دمشق میں ایک جماعت پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔۔۔از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 522-523) حضرت خلیفہ اسی الثانی رضی اللہ عنہ نے اس بارہ میں فرمایا: شاہ صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب کے جانے کے بعد دمشق پر جو عذاب آیا وہ بتاتا ہے کہ ہم نے جو دمشق کے متعلق سمجھا تھا کہ اس کے لئے انذار اور تبشیر کا وقت آ گیا ہے وہ درست تھا۔ادھر میں وہاں گیا، پھر یہ مبلغ بھیجے گئے۔اس کے بعد وہاں ایسا عذاب آیا