مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 159 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 159

151 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول خواہشمند نماز جمعہ کے انتظار کیلئے مسجد میں جمع تھے۔مسجد کے وسط میں ایک حجرہ کے اندر ایک قبر کی طرف اشارہ کر کے ایک شخص نے عرض کیا کہ حضرت بیچی نبی کی قبر ہے حضور زیارت کریں گے؟ حضور نے فرمایا کہ ہم اس بات کا اعتقاد نہیں رکھتے۔یہ بات صحیح نہیں کہ یہاں حضرت بیٹی نبی کی قبر ہے وہ تو القدس میں فوت ہوئے اور وہیں ان کی قبر ہے۔بعض لوگوں نے اور ایسی ہی روایات کی طرف حضور کو متوجہ کرنا چاہا مگر حضور نے پسند نہ فرمایا اور مسجد کے اندر کے حصہ میں سے گزرتے ہوئے مغرب سے مشرق کی جانب تشریف لے گئے اور وسعت کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ وہ مسجد ہے جہاں یقیناً صحابہ نے نمازیں پڑھیں ہیں۔مسجد کی عمارت اور وسعت سے پتہ لگ سکتا ہے کہ اس زمانہ میں کس قدر لوگ نماز کے پابند تھے۔حضور نے اندازہ کرایا تو معلوم ہوا کم از کم تین سو آدمی ایک صف میں کھڑا ہو سکتا ہے اور بیس سے زیادہ صفوف مسجد کے متینوں حصوں میں کھڑی ہو سکتی ہیں یعنی چھ یا سات ہزار آدمی مسجد کے اندر نماز ادا کر سکتا ہے اور اسی قدرصحن میں گویا قریباً پندرہ ہزار آدمی ایک وقت میں نماز ادا کر سکتا ہے۔مسجد کے دو مینا ر تھے، شمالی مینار پر اذان کہی جاتی ہے اور دوسرا جو مشرقی جانب تھا بالکل بند پڑا تھا اس پر چڑھنے کی کسی کو اجازت نہیں تھی۔لوگوں نے بتایا کہ اس کو حضرت مسیح کے نازل ہونے کے واسطے ریز رو رکھا ہوا ہے۔تاہم مسجد کا کوئی مینار سفید نہ تھا بلکہ دونوں ہی رنگ دار اور سرخی مائل تھے۔منارة بيضاء دمشق پہنچنے پر حضور کا منشا تھا کہ کسی معزز اور آبا دحصہ شہر میں بہت شریفانہ مقام پر کوئی جائے قیام مل جائے اور اس منشا کے ادا کرنے کی غرض سے شہر کے قریباً تمام مقامات پر کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہ ہوئی۔خدیو یہ ہوٹل میں جگہ نہ تھی۔سنترال ہوٹل حضور کے مناسب حال نہ تھا۔علیحدگی نہ تھی۔آخر جب کوئی صورت نہ بنی تو اس خیال سے کہ صرف ایک دن گزارنے کے لئے یہاں ٹھہر جائیں حضور ٹھہر گئے۔اُمید یہ تھی کہ خدیو یہ ہوٹل جو نسبتاً زیادہ صاف ہے اس میں جگہ مل جاوے گی جیسا کہ اس کے مینجر نے وعدہ بھی کیا تھا مگر کوئی جگہ خالی نہ ہو سکی اور معلوم ہوا کہ تمام ہوٹل بھر پور ہیں اور مسافر زیادہ آ رہے ہیں۔