مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 157 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 157

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 149 ہے۔وہابیوں نے پہلے ہی سخت صدمہ پہنچایا ہے۔آپ بلا د یورپ، امریکہ اور افریقہ کے کفار اور نصاریٰ میں تبلیغ کریں ،مبشر بھیجیں لیکن یہاں ہرگز ان عقائد کا نام نہ لیں خدا کے واسطے اَنَا اَرْجُوكُم یا سیدی۔کبھی بوسہ دے کر کبھی ہاتھوں کو لپیٹ کر غرض ہر رنگ میں بار بارمنت کرتا تھا کہ خدا کے واسطے ان علاقہ جات میں سیدنا احمد کی تعلیمات کا اعلان نہ کریں اور نہ مبشر بھیجیں وغیرہ وغیرہ۔ہم جانتے ہیں کہ وہ اچھے آدمی تھے۔اسلام کے لئے غیور تھے مگر ان کی نبوت اور رسالت کو ہم تسلیم نہیں کر سکتے صرف لا الہ الا اللہ پر لوگوں کو جمع کریں۔حضرت نے ان باتوں کا جواب بلند آواز اور پُر شوکت لہجہ میں دیا کہ اگر یہ منصوبہ ہمارا ہوتا تو ہم چھوڑ دیتے مگر یہ خدا کا حکم ہے اس میں ہمارا اور سید نا احمد رسول اللہ کا کوئی دخل نہیں۔خدا کا یہ حکم ہے ہم پہنچائیں گے اور ضرور پہنچا ئیں گے۔لَنْ نَبْرَحَ الْأَرْضِ کا قول ہمارا بھی قول ہے۔آپ مشکلات اور مصائب سے ہمیں ڈراتے ہیں۔مخالفت کا خوف دلاتے ہیں ہم ہر گز پرواہ نہیں کرتے خواہ ساری دنیا مخالفت پر کھڑی ہو جائے۔ایشیا، یورپ ، امریکہ اور افریقہ سب مخالف ہوں تب بھی ہم حق پہنچا ئیں گے خواہ قتل بھی کئے جائیں۔کابل نے آخر ہمارے آدمی قتل کئے مگر ہم نے تبلیغ نہیں چھوڑی اور نہ چھوڑیں گے۔تم زیادہ جانتے ہو یا خدا زیادہ جانتا ہے کہ مسلمانوں کے مفادات کس بات میں ہیں۔خدا نے مسلمانوں کی بہتری اور اصلاح کی غرض سے جو راہ اختیار کیا ہے بہر حال وہی درست ہے۔تم مانو تو بھلا ہو گا ، نہ مانو گے تو ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔تم نہ مانو گے تو دیکھ لینا تمہاری آنکھوں کے سامنے ہزاروں کی تعداد میں اللہ تعالیٰ اس ملک میں جماعت دے گا اور ضرور دے گا۔تم لوگوں کی مخالفت اور دشمنی حقیقت ہی کیا رکھتی ہے وغیرہ۔الغرض بڑے ہی جوش کی تقریر تھی۔اس تقریر پر وہ مولوی عبد القادر بہت ٹھنڈا ہوا اور کہا کہ آپ کے استقلال اور اولوالعزمی کا میں اعتراف کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ مبارک کرے مگر ان خیالات کو ہمارے ملک میں نہ پھیلائیں اور نہ ذکر کریں۔آخر اُٹھ کر چلا گیا اور ایک کو نہ میں دوسرے لوگوں سے باتیں کرنے لگا۔باوجود اس بحث اور جھگڑے کے طریق ادب کو اس نے نہ چھوڑا اور یاسیدی اور سیدنا حضرت احمد قادیانی کے الفاظ سے ہی بولتا اور کلام کرتا رہا۔اس کا لہجہ سخت تھا مگر با ادب - آخر اس نے درخواست کی کہ جامع امویہ حضور ضرور دیکھیں۔