مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 156
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 148 میں گفتگو کرنے کا محاورہ رکھتے ہیں اور عربی میں بولنے کا ہمیں موقع نہیں ملتا تم سے زیادہ صحیح اور بلیغ ہے وغیرہ وغیرہ۔حضور نے بڑے جوش سے عربی میں ایسی فصیح گفتگو فرمائی کہ وہ سید صاحب بھی مولوی عبد القادر کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ واقع میں ان کی زبان ہم لوگوں سے زیادہ فصیح ہے۔اس پر مولوی عبد القادر نے کچھ نرمی اختیار کی اور پھر ادب سے گفتگو کرنے لگا۔حضرت صاحب نے ان کو بتایا کہ ہم لوگ تو قادیان میں اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی عربی زبان سکھاتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ عربی زبان ہماری ثانوی زبان ہو جائے چنانچہ اس غرض کے لئے اب حضور نے یہ ارادہ فرمالیا ہے کہ ان عربوں اور شامیوں اور مصریوں کے اس گھمنڈ کو توڑ دیا جائے کہ جب کبھی کوئی عرب، شامی، مصری قادیان جاوے تو ہمارے سقے اور دھوبی تک ان سے پوچھا کریں کہ کیا تم کو عربی بولنی آتی ہے؟ اور فرمایا کہ ہمارے دوستوں کو چاہئیے عربی عورتوں سے شادی کریں اور عربی زبان کی ترویج کریں۔مولوی عبد القادر صاحب سے ختم نبوت اور نبوت حضرت مسیح موعود پر بھی گفتگو رہی اور حضور نے جب قرآن نکال کر بعض آیات پیش کیں تو کہہ اُٹھا کہ قرآن ہاتھ میں لے کر بات کر دینے سے بھی کوئی مسئلہ حل ہو سکتا ہے؟ کوئی تفسیر ہو ( غالباً معالم التنزیل کا نام لیا تھا) جب اس نے تفسیر کا نام لیا تو حضرت صاحب نے اس کو بہت جھنجھوڑا اور فرمایا کہ تم لوگ اس علم پر گھمنڈ رکھتے ہوا ور اتنے بڑے دعوے کرتے ہو کہ تم عرب اور اہلِ زبان ہو تفاسیر کیا حقیقت رکھتی ہیں۔کیا ہم قرآن سمجھنے کے لئے ان تفاسیر کے محتاج ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔اس کو اپنی فصاحت بھی بھول گئی اور دوسرے لوگوں کو مخاطب کر کے بولا شف یہ کیا کہتے ہیں۔ایسی بے چارگی اور حیرت سے اس نے شف کا لفظ بولا کہ اس پر رحم آتا تھا۔آخر بالکل ٹھنڈا ہو گیا۔سر سے پگڑی تین مرتبہ اس نے اُتاری اور پسینہ سکھانے کی کوشش کی۔اس نے یہ بھی کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود کی کتابوں میں زبان کی غلطیاں ہیں۔اس کا بھی جواب حضور نے خوب دیا اور فرمایا کہ تم میں اگر کچھ طاقت ہے تو اب بھی ان اغلاط کا اعلان کر دو یا ان کتب کا جواب لکھ کر شائع کر دو مگر یاد رکھو کہ تم ہر گز نہ کر سکو گے اگر قلم اٹھاؤ گے تو تمہاری طاقت تحریر سلب کر لی جاوے گی۔تجربہ کر کے دیکھ لو وغیرہ وغیرہ۔ان باتوں پر اب اس نے منت سماجت شروع کی کہ آپ ان دعووں کو عرب، مصر اور شام میں نہ پھیلائیں اس سے اختلاف بڑھتا ہے اور اختلاف اس وقت ہمارے لئے سخت نقصان دہ