مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 155 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 155

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 147 جاری کر دیئے جائیں گے اور ہمیں اللہ کے فضل سے یقین اور امید قوی ہے کہ جلد تر ان علاقہ جات میں جماعتیں ہمارے ساتھ مل جائیں گی کیونکہ حق ہمارے ساتھ ہے اور ہم حق کو لے کر دنیا میں نکلے ہیں وغیرہ۔اس پر ان لوگوں نے عرض کیا کہ آپ جلدی یہاں مبشر بھیجیں۔ہم لوگوں میں ایک بڑی جماعت ہے جو آپ کی جماعت میں شامل ہونے کے لئے تیار و آمادہ ہے جو حق کی پیاسی اور صداقت کی بھوکی ہے۔یہ بات ایسی سنجیدگی اور متانت سے ان لوگوں نے کہی کہ اس میں شبہ کی گنجائش ہی نہیں کہ انہوں نے مذاق کیا ہو یا مبالغہ آمیز بات کی ہو۔مولوی عبد القادر المغربي تاریخ احمدیت جلد 19 صفحہ 417-418) شیخ عبد القادر المغر بی چوٹی کے ادباء میں سے تھے۔حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب کے علامہ شیخ المغربی سے ان کے علمی، ادبی اور دینی مزاج کی مناسبت سے گہرے دوستانہ مراسم تھے۔آپ کی ان سے پہلی ملاقات 1916 میں ہوئی۔ایک دفعہ علامہ المغر بی نے حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب سے کہا کہ آئیے ہم دونوں تصویر بنوائیں اور دوستی کا اقرار قرآن مجید پر ہاتھ رکھتے ہوئے کیا۔اسی دوستی کی وجہ سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی دمشق آمد پر مولوی عبدالقادر صاحب بھی آپ سے ملنے آگئے جو نہایت ہی جو شیلے اور نیچری خیالات کے آدمی تھے۔ان کے آتے ہی پہلی پارٹی اُٹھ کر چلی گئی صرف سید عبدالقادر جیلانی کی اولاد کے بزرگ صاحب بیٹھے رہے جو معلوم ہوتا ہے کہ سنجیدہ اور صاحب رسوخ آدمی تھے کیونکہ جو بھی آتا تھا ان کو ادب اور احترام سے سلام کرتا تھا۔یہ صاحب اول سے آخر تک جماعتی خیالات کی بہت ہی تائید کرتے رہے اور سمجھدار آدمی تھے۔مولوی عبدالقادر صاحب کی باتوں کا طرز جوشیلہ اور بحث کا رنگ لئے ہوئے تھا۔بہت سے سوالات کے جواب پاکر اس نے یہ بھی کہہ دیا کہ ہم لوگ عرب ہیں۔اہل زبان ہیں۔قرآن کو خوب سمجھتے ہیں ہم سے بڑھ کر کون قرآن کو سمجھے گا وغیرہ۔اس پر حضور نے اس کو کسی قد رسختی سے جواب دیا اور فرمایا کہ تم کون ہو۔تم شامی لوگ لغت قرآن کو بالکل نہیں جانتے۔تمہاری زبان قرآن کی زبان نہیں۔تم لوگ بھی اسی طرح سے لغت کے محتاج ہو جس طرح سے ہم ہیں۔قرآن خدا نے ہمیں سکھایا ہے اور سمجھایا ہے۔ہماری زبان باوجود یکہ ہم لوگ اردو کی