مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 153 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 153

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول لے گئے جو سمندر کے کنارے بہت ہی خوبصورت مقام پر واقع تھا۔145 صبح ناشتہ وغیرہ کے بعد گھوڑا گاڑیوں پر بیٹھ کر شہر کی سیر کو نکلے۔حضور کی گاڑی کا ڈرائیور پڑھا لکھا بلکہ مولوی آدمی تھا۔حضور نے اس کو تبلیغ شروع کر دی اور وہ خاصے سوال و جواب کرتا رہا۔تھوڑی دور جا کر حیفا کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی کوٹھی آگئی حضرت صاحب نے مولوی عبدالرحیم صاحب درد کو اس سے ملاقات کرنے کو بھیجا۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اچھا خلیق آدمی تھا۔محبت اور اخلاق سے پیش آیا اور حضرت کا نام سن کر کہا کہ سفر لمبا ہے راستہ میں شاید کوئی سامان نہ ملے لہذا میں کچھ فروٹ منگا تا ہوں آپ میری طرف سے ہز ہولی نس His) (Holiness کے پیش کر دیں سفر میں آرام ہو گا مگر مولوی صاحب نے شکریہ کے ساتھ معذرت کی۔ایک مقام پر ایک مکان کے اوپر لکھا ہوا تھا عبدالبهاء عباس۔حضرت اقدس کو چونکہ رات ہی رپورٹ پہنچ چکی تھی کہ حیفا میں بہائی لوگ موجود ہیں اور یہ کہ شوقی آفندی جو اس وقت بہائیوں کے ایک حصہ کا خلیفہ مانا جاتا ہے وہ علہ سے نکل کر حیفا میں آ گیا ہے اس لئے حضرت کے حکم سے مولوی عبدالرحیم صاحب درد، صاحبزادہ حضرت میاں صاحب سلمہ رتبه اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب شوقی کے مکان پر گئے۔ان کے نوکر سے معلوم کیا۔نوکر نے بتایا کہ شوقی آفندی یہاں موجود نہیں سوئیٹرز رلینڈ میں گیا ہوا ہے اور کہ اس کا باپ یہاں موجود ہے اس کو اطلاع کئے دیتا ہوں۔اتنے میں دو چار چھوٹے چھوٹے بچے اور ایک لڑکی پندرہ سولہ برس کی آگئے اور محبت سے ملنے لگے۔ان میں ایک لڑکا شوقی صاحب کا بھائی اور دوسرا سالا تھا۔جب شوقی آفندی کا والد کچھ انتظار کے بعد باہر نہ آیا تو احباب واپس آگئے۔لیکن بعد میں شاید جب شوقی صاحب کے والد کو علم ہوا کہ یہ کون لوگ تھے تو وہ جلدی جلدی ملاقات کرنے کو تی سٹیشن پر آیا مگر حضرت اقدس چونکہ پہلے ہوٹل کو گئے ہوئے تھے جہاں سے سامان لیا اور پھر سٹیشن پر تشریف لائے لہذا شوقی صاحب کے والد صاحب مولوی عبدالرحیم صاحب درد سے پر ملے اور پوچھا کہ کیا آپ ہمارے مکان پر گئے تھے؟ مولوی صاحب نے کہا ہاں مگر کوئی بات نہ ہوسکی کیونکہ گاڑی چلنے میں بہت تھوڑا وقت تھا بمشکل سامان پہنچا کر ٹکٹ لیا گیا۔اور وفد گاڑی پر سوار ہو کر جلدی حیفا سے رخصت ہو گیا۔