مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 151
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 143 پیر کے پروانے ہیں) رہتا ہے۔آپ کا نام صوفی سید محمد ماضی ابوالعزائم ہے۔عالم اسلامی میں کی آپ کو ایک خاص شہرت حاصل ہے۔ایک رات کا واقعہ ہے کہ میں ان اندھیری گلیوں میں گزرتے ہوئے اس بڑے مکان میں داخل ہوا اور مکان کے اونچے نیچے صحن سے گزر کر ایک بڑے ہال میں پہنچا جہاں اس کے مرید ذکر کی محفل گرم کئے ہوئے تھے۔میں نے صوفی صاحب کے متعلق دریافت کیا۔معلوم ہوا کہ اندر کے کمرے میں بیٹھے ہیں۔آپ ایک بڑی آرام دہ کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔مریدوں کا حلقہ گر د تھا۔روشنی دھیمی تھی۔کوئی ان کے برابر نہیں بیٹھ سکتا تھا۔مگر مجھے آپ نے ہمیشہ اپنے قرب میں اور ساتھ بیٹھنے کا شرف دیا۔مجھے دیکھ کر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور میرے ہاتھ کو بوسہ دیا اور کہا کہ: اسلام میں سخت قحط الرجال ہے۔آج اگر سید احمد ( یعنی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام) ہوتے تو میں ان کے جوتے کو اپنے سر پر رکھ لیتا۔لوگوں نے ان کی حقیقت کو نہیں 66 جانا اور بڑا ظلم کیا ہے“۔بیت المقدس میں الحکم قادیان کا خاص نمبر۔مورخہ 12 مئی 1934 ء جلد 37 نمبر 18,19 حضرت مصلح موعودؓ اپنے وفد کے ساتھ مصر سے بذریعہ ریل یکم اگست 1924 کو بیت المقدس سٹیشن پر پہنچے جہاں ایک مجاور خوش وضع مولوی قطع جبہ پوش جس کو کسی طرح سے حضور کا نام پہنچ گیا تھا ( حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ) ایک کاغذ پر لکھا ہوا لئے پوچھتا پھرتا تھا۔آخر تلاش کر کے ملا اور عرض معروض کرتا رہا کہ حضور میرے غریب خانہ پر ٹھہریں میں خدمت کرنا چاہتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔مگر حضور یروشلم کے نیو گرانڈ ہوٹل میں فروکش ہوئے۔کھانے اور نمازوں سے فارغ ہو کر حضور موٹر کے ذریعہ ابوالانبیاء حضرت ابراہیم کی قبر پر تشریف لے گئے جو اس جگہ سے 25 میل کے فاصلہ پر واقع ہے جہاں حضرت اسحاق ، حضرت سارہ، حضرت اسحاق کی بیویوں کی اور حضرت یعقوب ، حضرت یوسف کی قبور ہیں اور وہاں مسجد بھی ہے۔حضور نے حضرت ابراہیم کے مقبرہ پر لمبی دعائیں کیں۔حضور شام کی نماز کے بعد یہاں سے واپس تشریف لائے۔