مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 150 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 150

142 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول پھر صرف تنہائی اور علیحدگی میں اگر وہ ایسا اظہار کرتا تو بھی کچھ شبہ اور شک کی بات باقی تھی مگر اس نے تو علی رؤس الا شہاد اپنے خاص شاگردوں اور مریدوں میں جن کی تعدا د ٹھیک 9 کس تھی اور واقع میں وہ بڑے علماء بھی تھے۔بعض انگریزی خوان تھے کیونکہ ان میں سے ایک نے خان صاحب سے انگریزی میں باتیں کر کے ان کا ترجمہ اس کا سنایا۔ان سب کے سامنے اس نے ایمان لانے کا اظہار کیا اور کہا کہ میں حضرت امامنا پر ایمان لاتا ہوں تم گواہ رہو۔تم اگر ڈرو اور نہ مانو تو تمہاری مرضی ورنہ میں نے مانا اور قبول کیا کہ یہ سب کلام حق ہے۔اس کلام میں کھول کر سنا دیا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود کا مذہب ہے کہ مسیح ناصری وفات پاچکے ہیں وغیرہ وغیرہ اور دوسرے تمام خصوصی عقائد بھی پہونچا دیئے تھے۔دو (از دورہ یورپ ) وضاحت کے لئے عرض ہے کہ انکا پورا نام محمد ماضی ابو العزائم ہے۔آپ کا نسب حضرت عبد القادر جیلانی اور آخر میں حضرت امام حسن بن علی بن ابی طالب سے ملتا ہے۔آپ مصر کے شہر رشید میں 1869 میں پیدا ہوئے۔قرآن کریم حفظ کیا اور علوم حدیث و فلسفہ اور تصوف میں گہرا مطالعہ کیا اور ملکہ حاصل کیا۔خرطوم یونیورسٹی کے شریعت کالج میں بطور استاد بھی کام کیا۔آپ نے متعدد کتب بھی تصنیف کیں جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں: معارج المقربين، هداية السالك إلى علم المناسك الفرقة الناجية، السراج الوهاج في الإسراء والمعراج، وسائل إظهار الحق، المفاهيم في الميزان وغیرہ۔آپ نے 1937 میں 68 سال کی عمر میں وفات پائی۔آپ صوفیوں کے سلسلہ کے امام سمجھے جاتے ہیں بلکہ آپ کے اتباع آج آپ کو مجدد اور امام حق و غیرہ کے القاب سے یاد کرتے ہیں۔آپ کی زندگی اور افکار وغیرہ پر فلم بھی بنائی گئی ہے نیز کئی ویب سائٹس پر آپ کی کتب اور آپ کی سیرت و نظریات وخیالات کو نشر کیا گیا ہے۔اس صوفی بزرگ نے صرف حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے سامنے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے کا اقرار نہیں کیا تھا بلکہ جب مکرم محمود عرفانی صاحب مصر میں اپنے قیام کے دوران ان سے ملنے گئے تو ان سے ملاقات کا حال ان الفاظ میں لکھا: " قاہرہ کے پرانے حصہ میں پیچ در پیچ گلیوں میں ایک بڑا مکان ہے جو کسی زمانے میں بہت بڑا محل ہوگا۔اس محل میں ایک بہت بڑا صوفی (جس کے ہزار ہا مرید ہیں اور مرید اپنے