مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 141
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 133 اپنے اخلاق کا نمونہ دکھانے کی کوشش کریں کیونکہ غیر جگہ انسان جاتا ہے تو لوگ اس کی حرکات وسکنات کی طرف زیادہ توجہ کرتے ہیں۔ہر ایک بات پر اپنی رائے ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔جب کوئی ایسی بات پیش کرے جس پر رائے کا اظہار نا مناسب ہے یا ایسی بحثوں کی طرف لے جائے جو سفر کے مقصد کے خلاف ہے تو بہتر ہے کہ کہہ دیں کہ مجھے اس امر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس لئے نہ میں نے اس پر کافی غور کیا ہے اور نہ اس پر میں اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہوں۔ہر قوم میں کچھ عیوب ہوتے ہیں، کچھ خوبیاں۔پس مصریوں کی خوبیاں سیکھنے کی کوشش کریں۔مگر ان کے عیوب سیکھنے کی کوشش نہ کریں۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب انسان اپنے گرد و پیش ایک قسم کے حالات دیکھتا ہے تو بری باتیں بھی اسے اچھی نظر آنے لگتی ہیں۔اور وہ اسے بطور فیشن اختیار کر لیتا ہے۔مومن کو اس سے ہوشیار رہنا چاہئے“۔شیخ محمود احمد صاحب 18 فروری 1922ء کو قادیان سے روانہ ہوئے اور اسکندر آباد سے ہوتے ہوئے بمبئی پہنچے جہاں سے بذریعہ جہاز قاہرہ (مصر) میں وارد ہوئے۔آپ نے حضور کی ہدایات کی روشنی میں وہاں اس رنگ سے تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا کہ خدا کے فضل سے پہلے سال ہی ایک جماعت پیدا کر لی۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے سالانہ جلسہ 1922ء پر۔اس کا ذکر فرمایا: ” اس سال بیرونی ممالک میں تبلیغ کے سلسلہ میں ایک نیا مشن مصر میں جاری کیا گیا ہے جہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک طالبعلم کے ذریعہ جماعت پیدا کر دی ہے۔دسمبر 1923ء سے آپ کی ادارت میں ” قصر النیل“ کے نام سے ایک ہفت روزہ اخبار جاری ہوا۔عرفانی صاحب نے 1926ء تک مصر میں کام کیا اور اعلیٰ طبقہ کے سرکاری ملازمین آپ کے ذریعہ داخل جماعت ہوئے جن میں سے الأستاذ احمد حلمی آفندی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 286 287) شیخ محمود احمد عرفانی صاحب نے ان سالوں کی بعض یادوں کو ایک مضمون بعنوان: ”عالم اسلامی میں میرے آقا کے تذکرے میں قلم بند فرمایا تھا۔قارئین کی دلچسپی کے لئے ان میں سے بعض حصے یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔