مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 140
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 132 دار التبلیغ مصر کا قیام 1922ء کے آغاز میں حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی طرف سے شیخ محمود احمد صاحب عرفانی کو مصر جانے کا حکم ہوا۔ان کو روانہ کرتے ہوئے حضور نے جو قیمتی نصائح فرما ئیں ان میں اور باتوں کے علاوہ زبان سیکھنے کے اصول بھی بیان ہوئے ہیں۔احباب کے فائدہ کے لئے یہ نصائح ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔فرمایا: آپ مصر جاتے ہیں ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ سر زمین دنیا کی تباہی اور ترقی کے ساتھ ایک خاص تعلق رکھتی ہے۔اس سرزمین سے اسلام کو بہت سا نقصان بھی پہنچا ہے اور فائدہ بھی۔اور آئندہ اور بھی حوادث ہیں جو اس سے تعلق رکھتے ہیں۔اور ہم امید کرتے ہیں کہ انجام کار وہ اسلام کے لئے مفید ہوں گے۔پس اس سرزمین میں بہت ہی ڈرتے ڈرتے قدم رکھیں اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں کہ وہ آپ کا قدم ادھر ادھر پڑنے سے آپ کو محفوظ رکھے۔آپ کا اوّل کام عربی زبان کا سیکھنا ہے اس لئے ہندوستانیوں سے رابطہ پیدا نہ کریں کیونکہ انسان غیر ملک میں اپنے اہل ملک سے جب ملتا ہے ، ان کی طرف بہت کھینچ لی جاتا ہے۔پس جہاں تک ہو سکے عربوں سے ہی میل ملاقات رکھیں تا کہ زبان صاف ہونے کا موقعہ ملے۔اور یہ بھی احتیاط رہے کہ تعلیم یافتہ لوگوں سے تعلق ہو کیونکہ جہال کی زبان بہت خراب ہوتی ہے۔سیاسیات میں نہ پڑیں اور نہ سیاسی لوگوں سے تعلق رکھیں۔کیونکہ سیاسی لوگوں میں اگر تبلیغ ہوئی بھی تو ان کو اپنے راستہ سے ہٹا کر دین کی طرف لانا دگنی محنت چاہتا ہے۔اور اس قدر کام آپ موجودہ اغراض کو پورا کرتے ہوئے نہیں کر سکتے۔