مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 138
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 130 صالح الرافعي الطرابلسی۔ان صاحب کا کہنا تھا کہ استاذ زین العابدین ہمارے گھر روزانہ عربی پڑھنے کیلئے آیا کرتے تھے اور میں دروازہ کھولا کرتا تھا۔ان کے گھر ایک فوٹو بھی حضرت شاہ صاحب کا ہے۔جس پر الشیخ صالح الرافعی کی یہ عبارت درج ہے۔تِلْمِيذُ مِنْ تَلَامِيذِ المَهْدِى عَلَيْهِ السَّلَام جَاء مِنَ الْهِنْدِ لِتَلَقَّى الْعُلُومِ الْعَرَبِيَّةِ یعنی حضرت مهدی علیہ السلام کے شاگردوں میں سے ایک شاگرد جو ہندوستان سے عربی کی تعلیم کیلئے آئے۔الشیخ صالح الرافعی سے بیرونی ملک کے کئی طلباء مفت تعلیم حاصل کیا کرتے تھے اور وہ بڑے اخلاص سے ہے کام کیا کرتے۔السید منیر الحصنی صاحب امیر جماعت احمدیہ دمشق بھی شاہ صاحب کے شاگردوں میں سے تھے۔شاہ صاحب کے شاگردوں میں معزز عرب خاندانوں کے کئی صاحبزادگان تھے۔اس کالج میں پروفیسر کی حیثیت سے شاہ صاحب کو اعلیٰ علمی سوسائٹی سے رابطہ پیدا کرنے کا موقع مل گیا چنانچہ ان معزز اکابرین میں الاستاذ کر دعلی وزیر تعلیم حکومت شام، الاستاذ خلیل بک مرحوم وزیر خارجہ حکومت شام۔السید جمیل بک مرحوم وزیر اعظم شام اور الشیخ عبدالقادر المغربی پریذیڈنٹ پوپ اکیڈمی بھی تھے۔خاکسار کو قیام دمشق میں ان سے ملاقات کے کئی مواقع میسر آئے۔علاوہ ازیں مفتی اعظم فلسطین الحاج امین الحسینی اور السید صالح الخالدی پرنسپل عرب کالج بیت المقدس وغیر ہم سے بھی آپ کے گہرے تعلقات تھے۔الحاج امین الحسینی مفتی اعظم فلسطین جب بھی پاکستان آتے تو مکرم شاہ صاحب حضرت خلیفہ اسیح الثانی (نور اللہ مرقدہ) کی زیر ہدایت ملاقات کیلئے جایا کرتے تھے اور مفتی فلسطین بھی ان سے محبت سے پیش آیا کرتے تھے اور ان کی عزت کیا کرتے تھے۔حضرت شاہ صاحب نے قرآن کریم کی تفسیر اور اس کے حقائق حضرت خلیفہ اوّل (نوراللہ مرقدہ) سے پڑھے ہوئے تھے اور آپ کے درس سے استفادہ کیا ہوا تھا۔چنانچہ آپ قرآن شریف کے بعض مشکل مقامات کی تفسیر بیان کیا کرتے تو آپ کے کئی عرب ساتھی و اساتذہ دریافت کیا کرتے يَا اُسْتَاذُ مِنْ اَيْنَ تَعَلَّمُتَ هَذَا التَّفْسِير ؟ (یعنی آپ نے یہ تفسیر کہاں سے سیکھی ہے؟) شاہ صاحب جوابا کہتے تَعَلَّمُتُ مِنَ المفضال الشيخ نُورِ الدِّين - یعنی حضرت مولوی نورالدین صاحب سے میں نے یہ تفسیر سیکھی ہے یہ واقعہ مجھے اشیخ عبد القادر المغر بی رئیس الجمع