مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 137
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 129 پڑھانے کے لئے حضرت زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کا انتخاب کیا گیا۔آپ کے شاگردوں میں سے ایک با سعادت شاگر د مکرم منیر اکھنی صاحب آف شام بھی تھے۔جب جنگ ختم ہوئی اور عرب فوجیں اپنے حلیفوں کے ساتھ دمشق میں داخل ہوئیں تو آپ کو سلطانیہ کالج کا وائس پرنسپل مقرر کیا گیا۔لیکن انگریزوں نے آپ کو اسیر بنالیا۔چنانچہ ایک لمبے عرصہ تک آپ کے متعلق کسی کو کچھ پتہ نہ چل سکا۔حتی کہ آپ اسیری میں لاہور لائے گئے جہاں سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے آپ کو آزاد کروایا۔(ماخوذ از مجلۃ البشری جنوری، فروری 1937 ء صفحہ 45 تا 49 ) یہاں پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شاہ صاحب کے اس عرصہ کے بعض واقعات کا بھی تذکرہ کر دیا جائے جو مکرم شیخ نوراحمد منیر صاحب نے تحریر فرمائے ہیں ، وہ لکھتے ہیں: حضرت شاہ صاحب اپنے اساتذہ کے محبوب ترین شاگردوں میں سے تھے اور آپ کو بھی اپنے اساتذہ کا از حد احترام تھا۔آپ اپنے اساتذہ کے بارہ میں لکھتے ہیں: د میں اس گھڑی کو ہر وقت یاد کرتا ہوں کہ جب میرے یہ استاد مجھے پڑھایا کرتے تھے۔تاریک رات ، موسلا دھار بارش، غضب کی ٹھنڈک اور سردی، اور نیند کا شدید غلبہ، بعض اوقات رات کے بارہ بج جاتے ، مگر یہ اساتذہ مجھے پڑھانے کی انتہائی خواہش رکھتے تا کہ میں اپنی تعلیم کی جلدی سے تکمیل کر سکوں اور یہ کام محض بغیر اجر وخواہش کے کیا کرتے تھے کیونکہ ان کا یہ کہنا تھا کہ وہ مجھ میں خیر و برکت کو دیکھتے ہیں۔تِلْمِيذُ مِنْ تَلَامِيذِ المَهْدِى“ الشیخ صالح الرافعی آپ سے بہت ہی محبت و عقیدت رکھتے تھے اور وہ آپ کی ( دعوت الی اللہ ) سے بیعت بھی کر چکے تھے چنانچہ اس ضمن میں ایک تاریخی مگر نا قابل فراموش واقعہ بیان کرتا ہوں۔میرے قیام بیروت میں ایک مرتبہ بیروت کی میونسپلٹی کے ایک کارکن ٹیکس وصولی کیلئے آئے۔عاجز نے ان کو بٹھایا اور ان کی تواضع کی۔اس دوران میں کئی امور پر باہمی تبادلہ خیالات ہوا۔وہ کہنے لگے کہ میرے والد صاحب مرحوم بھی اس عقیدہ کے تھے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو چکا ہے اور میں نے ان کو قبول کر لیا ہے۔میں ابھی اس وقت چھوٹی عمر کا تھا۔جب میں نے ان کے والد کا نام پوچھا تو انہوں نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا۔الشیخ