مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 130
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول اسیری اور رہائی 124 اکتوبر 1918ء کے آخر میں جنرل ایلیٹ کے حکم سے جوڈیشل ملٹری نے مجھے حراست میں لیا اور بطور اسیر جنگی اور اسیر سیاسی قاہرہ لے گئے اور جنگ ختم ہونے کے بعد مئی 1919 ء کے اواخر میں لاہور لایا گیا۔بظاہر میں حکومت برطانیہ کا شاہی قیدی تھا لیکن حقیقت میں آسمانی اسیر تھا جس سے سلسلہ کے لئے کئی ایک خدمات لینا منشائے الہی تھا۔یہاں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مجھے آزاد کروایا۔ان دنوں پنجاب کے گورنر ریڈوائر (Redwire) تھے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب، چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب وغیرہ ان کے پاس لاہور بھیجے گئے۔اس تحریری ہدایت کے ساتھ کہ اگر پچاس ہزار روپیہ کی ضمانت بھی دینی پڑے دی جائے۔غرض مجھے قادیان جانے کی اجازت دی گئی۔اس پابندی کے ساتھ کہ اگر باہر کسی جگہ جانا ہو تو گورنمنٹ کو اطلاع دینا ضروری ہوگا اور یہ نگرانی دیر تک رہی۔(ماخوذ از کتاب حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب تالیف احمد طاہر مرزا) دوعربوں کا قادیان میں ورود ستمبر 1913ء میں دو عرب قادیان میں تشریف لائے۔ایک نے خوش الحانی سے حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل کو قرآن شریف سنایا جس سے حضور خوش ہوئے اور اسے نصیحت کی کہ ایک جگہ قیام کرنا چاہئے شہر شہر پھرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔(حیات نور صفحہ 639) یہاں قارئین کرام کی یاد دہانی کے لئے عرض ہے کہ یہ اس وقت کی باتیں ہیں جب عرب ملکوں سے تیل کی دولت ابھی نہیں نکلی تھی اور ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت ہونے کی وجہ سے تجارتی اور مادی احوال بہتر تھے اس لئے کئی عرب ہندوستان میں تجارت کی غرض سے آتے تھے اور بعض عرصہ دراز تک ادھر ہی رہائش اختیار کئے رکھتے تھے۔نیز بعض سیاحت اور عربی زبان اور دینی علوم سکھانے وغیرہ کو بھی پیشہ بنا کر اس ملک میں قیام کرتے تھے۔