مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 129 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 129

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 123 بلا د عربیہ میں قیام کے دوران کے بعض امور کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب لکھتے ہیں: قاہرہ اور بیروت میں تعلیم قاہرہ میں قدیم طریقہ تعلیم سے میرا دل اچاٹ ہو گیا۔ابھی چار ماہ گذرے تھے کہ اس تصرف سے بیروت دیکھنے کا مجھے موقع ملا اور میں نے شیخ عبد الرحمن مصری صاحب کو قاہرہ چھوڑ کر بیروت میں پڑھائی شروع کر دی۔اتنے میں جنگِ عظیم اوّل شروع ہوگئی اور بیروت خطرہ میں تھا۔میرے اساتذہ نے مجھے مشورہ دیا کہ میں حلب چلا جاؤں۔چنانچہ میں حلب آیا اور یہاں اعلیٰ پایہ کے اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔اسی اثنا میں مجھے سات ماہ ایک ترکی رسالہ میں بھی خدمت کا موقع ملا اور میری اس خدمت کے صلہ میں سفارش کی گئی کہ ترکی کے امتحان کی شرط سے مجھے مستثنیٰ کیا جائے۔صلاح الدین ایوبیہ کالج بیت المقدس بیت المقدس میں میں نے امتحان دیا اور اچھے نمبروں پر پاس ہوا۔اور صلاح الدین ایوبیہ کالج بیت المقدس میں بطور استاد متعین ہو گیا اور یہاں عربی میں پڑھانے اور تعلیم جاری رکھنے کا سنہری موقع ملا۔فنِ تعلیم و تدریس میں مقابلہ کے ایک امتحان کا اعلان ہوا جس میں کئی اساتذہ شریک ہوئے۔میں اس امتحان میں اول رہا اور مجھے تمغہ اور پچاس اشرفیاں انعام ملیں اور شام کی یونیورسٹی سے جو سند بہ دستخط وزیر تعلیم اور کونسل جاری کی گئی وہ بھی تعلیمی لحاظ سے میرے لئے بہت خوش کن تھی۔اس میں اس بات کا ذکر تھا کہ ایک قلیل عرصہ میں علوم آداب عربیہ کی ایسی قابلیت حاصل کر لینا ایک نادر بات ہے۔(الحمد لله على ذلك) یہ میری تعلیمی جدوجہد کی مختصر سر گذشت ہے۔( مشار الیہ سند مع قیمتی لائبریری ۱۹۴۷ء میں بوقت تقسیم لوٹ میں ضائع ہوگئی) صلاح الدین ایوبیہ کالج میں مجھے تاریخ ادیان، انگریزی اور اُردو پڑھانے کا موقع ملا اور شام میں انگریزوں اور امیر فیصل کی افواج کے داخل ہونے کے بعد مجھے سلطانیہ کالج کا وائس پرنسپل منتخب کیا گیا اور یہاں علم النفس (Psychology) اور علم الاخلاق (Ethics) کے مضامین دیئے گئے۔