مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 128
122 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول کر دیئے تھے جو بیش قیمت نصائح اور ہدایات پر مشتمل ہیں۔ہم ذیل میں مبلغین اور طالبعلموں کے فائدہ کے لئے خصوصاً اور افراد جماعت کے لئے عموماً ان میں سے چند نصائح درج کرتے ہیں جو آج بھی مشعل راہ ہیں اور ان پر عمل کرنا بیش بہا برکتوں کا موجب ہوگا۔ان نصائح میں آپ نے علم کی فضیلت اہمیت اور مختصر فہرست علوم و کتب بھی درج فرمائی نیز فرمایا کہ: طالبعلم کو چاہئے کہ علم محض اللہ سیکھے ، اور اللہ کی مدد لے کر اور اللہ تعالیٰ میں ہو کر سیکھے۔شریعت کے احکام کا عالم بنے اور فخر کرنے والا نہ ہو، نہ ہی بڑائی جتانے والا ہو۔دوسروں سے علمی باتیں کر کے اپنا علم پکا کرتا رہے اور بار بار پڑھتا اور یاد کرتا رہے ، اور ایک دن کا کام دوسرے دن پر نہ ڈالے“۔زبان بولنے سے اور سننے سے آتی ہے۔صرف و نحو کے پڑھنے سے ہرگز نہیں آتی۔کیا ہم نے پنجابی صرف و نحو پڑھ کر سیکھی ہے؟ کبھی صرف ونحو پر وقت ضائع نہ کرو۔گاہے گا ہے توفیق ملے تو مکہ معظمہ ، بیت المقدس ، اور دمشق ، شام چلے گئے۔ہر ہفتہ لکھ دیا کرو۔کوئی عجیب بات اس سے عمدہ نہیں کہ دعائیں مانگو۔اللہ تعالیٰ کو مددگار بناؤ، اسی سے یار و مددگار طلب کرو۔میرے لئے صرف دعا‘“۔جدیدہ مطبوعات سے آگاہی ، مفید کتاب کی نقل جوطبع ہونے والی نہ ہو۔قیمت میں وو حیات نور صفحہ 631-632) روانہ کروں گا“۔یہ تمام نصائح ہی بیش قیمت اور سنہری حروف سے لکھنے والی ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ سے دعا، اسی کی خاطر علم کا حصول اور خلیفہ وقت کے لئے دعا اور ہر نئی علمی اور تحقیقی خبروں سے اسے باخبر رکھنا اور خلیفہ وقت کی خدمت میں ایسے امور کے ساتھ دعا کی غرض سے خطوط لکھتے رہنا ایسے بنیادی زریں اصول ہیں کہ جنہیں ایک احمدی کو حرز جان بنا لینا چاہئے۔حضور کے دوسرے خط سے پتہ چلتا ہے کہ ابو سعید عرب صاحب ان دنوں وہاں بلاد عربیہ میں مقیم تھے کیونکہ حضور نے حضرت زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور شیخ عبدالرحمن صاحب لاہوری کو اس خط میں لکھا کہ ابوسعید عربی صاحب سے مل کر طریق تعلیم کے بارہ میں راہنمائی حاصل کریں۔(حیات نور صفحہ 633)