مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 120
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول اور ترقی عطا کر۔114 سرزمین مکہ سے اپنے ایک مکتوب میں فرمایا: اللہ اللہ کیا پاک ملک ہے۔ہر چیز کو دیکھ کر دعا کی توفیق ملتی ہے۔خدا کی رحمتیں اس زمین پر بے شمار ہی معلوم ہوتی ہیں۔مکہ مکرمہ کے بارہ میں ایک خط میں لکھا: 'خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر اور عنایت ہے کہ اس نے اپنے فضل سے اپنے پاک اور مقدس مقام کی زیارت کا موقعہ دیا۔کل جب مکہ کی طرف اونٹ آرہے تھے دل کی عجیب کیفیت تھی کہ بیان نہیں ہو سکتی۔محبت کا ایک جوش دل میں پیدا ہورہا تھا اور جوں جوں قریب آتے تھے دل کا شوق بڑھتا جاتا تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے نام اپنے ایک خط میں آپ نے لکھا: سرزمین مکہ کی ہر ایک اینٹ اور ہر ایک مکان اور ہر ایک آدمی اور ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ایک ثبوت ہے۔اس وادی غیر ذی زرع میں کیا کچھ سامان لا کر اکٹھا کر دیا۔کعبہ کو بھی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ہر وقت سینکڑوں آدمی گھوم رہے ہیں اور عملی طور پر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے احکام پر قربان کرنے کا اشارہ کر رہے ہیں۔پھر اس سرزمین سے کیسا پاک انسان خاتم الرسل پیدا ہوا۔ایک اور خط میں آپ نے تحریر فرمایا: دعاؤں سے رغبت اور دعاؤں کا القاء اور رحمت الہی کے آثار جو میں نے اس سفر میں اور خصوصا مکہ مکرمہ اور ایام حج میں دیکھے ہیں وہ میرے لئے بالکل ایک نیا تجربہ ہے۔اور میرے دل میں ایک جوش پیدا ہوا ہے کہ اگر انسان کو توفیق ہو تو وہ بار بار حج کرے۔کیونکہ بہت سی برکات کا موجب ہے۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 421 ، حیات نور باب ہفتم) کیا کوئی منصف مزاج ان تحریرات کو پڑھ کر مذکورہ بالا اعتراض کو درست تسلیم کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ یہ کلمات بیت اللہ ، اُم القری ، اور دیار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے لبریز اور ان کے عشق کے عطر سے ممسوح ہیں۔