مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 104
100 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول تصدیق کرتے ہیں۔ضرورت موجودہ میرے وجود کی داعی اور وہ نشان جو میرے ہاتھ پر پورے ہوئے وہ الگ میرے مصدق ہیں۔ہر ایک نبی ان امور ثلاثہ کو پیش کرتا رہا اور میں بھی یہی پیش کرتا ہوں۔پھر کس کو انکار کی گنجائش ہے۔اگر کوئی کہتا ہے کہ میرے لئے ہے تو اسے میرے مقابلہ میں پیش کرو۔ان فقرات کو حضرت اقدس علیہ الصلاۃ والسلام نے ایسے جوش سے بیان کیا کہ وہ الفاظ میں ادا ہی نہیں ہو سکتا۔نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں نو وارد صاحب بالکل خاموش ہو گئے اور پھر چند منٹ کے بعد انہوں نے اپنا سلسلہ کلام یوں شروع کیا: نو وارد عیسی علیہ السلام کے لئے جو آیا ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرتے تھے کیا یہ صحیح ہے؟ حضرت اقدس: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو آیا ہے کہ آپ مثیل موسیٰ تھے کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ نے عصا کا سانپ بنایا ہو۔اور کونسے دریائے نیل پر آپ کا گزر ہوا؟ اور کب اور کس قدر جوئیں مینڈ کیں اور خون آپ کے زمانہ میں برسا؟ کافر یہی اعتراض کرتے رہے: فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرسِلَ الأَوَّلُونَ (الانبیاء:6)۔معجزہ ہمیشہ حالت موجودہ کے موافق ہوتا ہے۔پہلے نشانات کافی نہیں ہو سکتے اور نہ ہر زمانہ میں ایک ہی قسم کے نشان کافی ہو سکتے ہیں۔نو دارد: عربی میں آپ کا دعوی ہے کہ مجھ سے زیادہ فصیح کوئی نہیں لکھ سکتا۔بے ادبی معاف آپکی زبان سے قاف ادا نہیں ہوسکتا۔حضرت اقدس میں لکھنؤ کا رہنے والا تو نہیں ہوں کہ میرا لہجہ لکھنوی ہو۔میں تو پنجابی ہوں۔حضرت موسیٰ پر بھی یہ اعتراض ہوا کہ لَا يَكَادُ يُبین اور احادیث میں مہدی کی نسبت بھی آیا ہے کہ اس کی زبان میں لکنت ہوگی۔اس مقام پر ایک مخلص مخدوم کو یہ اعتراض حسن ارادت اور غیرت عقیدہ کے سبب سے ناگوار گزرا۔اور وہ سوء ادبی کو برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے کہا کہ یہ حضرت اقدس ہی کا حوصلہ ہے۔اس پر نو وارد صاحب کو بھی طیش سا آ گیا اور انہوں نے بخیال خویش یہ سمجھا کہ انہوں نے غصہ سے کہا ہے اور کہا کہ میں اعتقاد نہیں رکھتا اور حضرت اقدس سے مخاطب ہو کر کہا کہ استہزاء اور گالیاں سننا انبیاء کا ورثہ ہے۔حضرت اقدس : ہم ناراض نہیں ہوتے یہاں تو خاکساری ہے۔