مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 105
101 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول ازاں بعد حضور نے نووارد کی اطمینان قلب کے لئے اسکے سوال کا مزید تفصیل۔جواب عطا فرمایا اور احباب کو نرم کلامی کو اپنانے کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا اگر مہمان کو ذرہ بھی رنج پہنچے تو ہم اسے معصیت میں سے خیال کرتے ہیں۔علاوہ ازیں اس نو وارد نے کئی اور بھی سوالات کئے اور بالآخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صبر ، اخلاق اور صداقت کے دلائل سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں اپنے لئے دعا کی درخواست کی پھر یوں گویا ہوا: میں سچ عرض کرتا ہوں کہ میں بہت بُرا ارادہ کر کے آیا تھا کہ میں آپ سے استہزاء کروں۔مگر خدا نے میرے ارادوں کو رڈ کر دیا۔اب میں زور دے کر نہیں کہہ سکتا کہ آپ مسیح موعود نہیں ہیں۔بلکہ مسیح موعود ہونے کا پہلو زیادہ زور آور ہے۔اور میں کسی حد تک کہہ سکتا ہوں کہ آپ مسیح موعود ہیں۔جہانتک میری عقل اور سمجھ تھی میں نے آپ سے فیض حاصل کیا ہے اور جو کچھ میں نے سمجھا ہے میں ان لوگوں پر ظاہر کروں گا جنہوں نے مجھے منتخب کر کے بھیجا ہے۔کل میری اور رائے تھی اور آج اور ہے۔آپ جانتے ہیں کہ ایک پہلوان بغیر لڑنے کے زیر ہو جائے تو وہ نامرد کہلائے گا۔اس لئے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ بدوں اعتراض کئے تسلیم کر لیتا۔چونکہ میں معتمد ان لوگوں کا ہوں جنہوں نے مجھے بھیجا ہے اس لئے میں نے ہر ایک بات کو بغیر دریافت کئے مانا نہیں چاہا۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 82 تا 110) 00000