مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 92
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول ہے، پھر بھی اس پر مخلصانہ ایمان رکھتا رہا۔اس پر مستزاد یہ کہ ایسے منافق پر الٹمی معارف کی بارش بھی ہوتی رہی ، اور اگر چند کوڑیوں کا بھوکا تھا تو ان کے بدلے حضو علیہ السلام کے مخالفوں کی بھی مدد کر دیتا تا کہ وہ حضور علیہ السلام کا چیلنج قبول کرتے اور اس کا جواب دے سکتے۔ایسے ہی انبیاء کے مخالف لوگوں کی عقلیں ماری جاتی ہیں۔کیونکہ ان کے اقوال ہمیشہ متضاد ہوا کرتے ہیں۔اس کی ایک اور مثال سنیں : اخبار الفتح نے لکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ایک شامی عربی نے لکھی ہیں۔جبکہ اخبار المنار کے ایڈیٹر شیخ رشید رضا نے لکھا کہ : حضور کی تحریر میں عجمیوں کی سی رکاکت پائی جاتی ہے۔اب کوئی بھی عقلمند ان دونوں باتوں کا تضاد حل کر کے نہیں دکھا سکتا۔ایک کہتا ہے کہ اتنی اچھی عربی ہے کہ عجمی لکھ ہی نہیں سکتا بلکہ ایک شامی عربی نے لکھی ہے۔دوسرا کہتا ہے اتنی پھپھی تحریر ہے کہ صاف پتہ چلتا ہے کسی عجمی نے لکھی ہے۔حضرت مسیح موعو علیہ السلام نے اس کا کیا ہی پیارا جواب دیا۔آ ب عربی قصیدہ میں 88 فرماتے ہیں: انظُرْ إلى أقوالهم وتَناقُضِ سَلَبَ العناد إصابة الآراء طورًا إلى عرب عَزَوهُ وَتارةً قالوا كلام فاسد الإملاء هَذا من الرحمن يا حزب العدا لا فِعل شامی ولا رُفَقائِی ترجمہ: تو ان کی باتوں اور ان میں موجود تضاد کو دیکھ کہ کس طرح دشمنی نے ان سے درست بات کہنے کی طاقت بھی سلب کر لی ہے۔کبھی تو میرے کلام کو کسی عرب کی طرف منسوب کرتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ اس کی تو املاء ہی فاسد ہے۔اے گروہ دشمناں! یہ تو خدائے رحمان کی طرف سے ہے۔نہ کسی شامی کا کام ہے نہ ہی میرے رفقاء کا۔