مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 91 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 91

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول بات کریں گے۔شیخ رشید رضا ایڈیٹر رسالہ المنار نے کہا: 87 اہل علم کی ایک بڑی تعداد اس کتاب سے بہت بہتر کتاب ستر کی بجائے سات دن میں لکھ سکتے ہیں۔(المنار المجلد الرابع ) شاید شیخ رشید رضا صاحب کو علم نہیں تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔شاید وہ بھول گئے کہ انبیاء پر ہونے والے اعتراضات ایک جیسے ہی ہوتے ہیں اور انبیاء کے مخالف ہمیشہ ایک سا ہی جواب دیتے چلے آئے ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر اعتراض کرنے والوں نے کہا تھا کہ: لَوْ نَشَاء لَقُلْنَا مِثْلَ هَذَا إِنْ هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الأَوَّلِينَ (الانفال:32) یعنی اگر ہم چاہیں تو اس جیسا کلام کہہ سکتے ہیں۔کل انہوں نے یہ کہا تھا اور آج شیخ رشید رضا نے کہا کہ اس جیسی کتاب تو بہت سے لوگ لکھ سکتے ہیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کفار مکہ قرآن جیسی کتاب لکھنے میں کامیاب ہو گئے ؟ ہرگز نہیں۔اور یہی ان کے جھوٹا ہونے اور عاجز آ جانے کی واضح دلیل ہے۔اسی طرح شیخ رشید رضا اس چیلنج کے بعد ثلث صدی تک زندہ رہے۔لیکن کیا وہ اس جیسی یا اس سے بہتر کتاب لکھنے میں کامیاب ہو گئے؟ ہر گز نہیں۔لہذا یہ شیخ رشید رضا کی کذب بیانی اور افتراء اور عاجز آ جانے کی واضح دلیل ٹھہری۔اسی طرح ایک مصری اخبار الفتح نے لکھا کہ: مرزا غلام احمد جھوٹ بولتا تھا کیونکہ اس نے اپنی بے سرو پا کتب لکھنے کے لئے ایک شامی کو تنخواہ پر رکھا ہوا تھا۔انہوں نے بھی اپنے اس قول میں اپنے سے قبل انبیاء کے مخالفین کا قول ہی دہرایا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار نے اس بات کا طعنہ دیا تھا اور کہا تھا کہ: إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ (النحل: 104) یعنی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی اور آدمی آ کر تعلیم دیتا اور سکھاتا ہے۔نادان سمجھ نہیں سکتے کہ اگر کوئی شامی حضور علیہ السلام کی کتابیں لکھتا تھا تو وہ یا مؤمن ہے پا منافق۔اس کے علاوہ تیسری کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔اگر منافق ہے تو نہایت خسیس ہے وہ نص جس نے چند کوڑیوں کے بدلے خدا پر جھوٹ باندھا۔اور اگر مخلص مومن تھا تو کتنی عجیب بات ہے کہ باوجود اس کے کہ جانتا تھا جس پر ایمان لایا ہے وہ بے علم ہے بلکہ خود اس سے سیکھتا