مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 88 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 88

84 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول کیا گیا۔چونکہ اس کتاب میں مسئلہ جہاد کے غلط تصور کا رڈ تھا اس لئے اصل مقصد اس کے بھیجوانے سے ان لوگوں کے غلط تصور جہاد کی اصلاح کرنا تھا۔اس لئے جب ایڈیٹر المنار نے جہاد کے متعلق حضور کی تحریر پڑھی تو اپنے تعصب کی وجہ سے جل گیا اور اس نے آنکھیں بند کرلیں، اور سخت گوئی اور گالیوں پر آ گیا، اور المنار میں بہت تحقیر اور توہین سے حضرت مسیح موعودؓ کو یاد کیا۔یہ پرچہ کسی طرح پنجاب میں پہنچ گیا اور بعض متعصب ملاؤں کے ہاتھ لگ گیا جنہوں نے اس کا ترجمہ کر کے اور مزید بڑھا چڑھا کر ایک اخبار میں شائع کر وا دیا اور جا بجا بغلیں بجانے لگے کہ دیکھو اہل زبان ادیب نے مرزا صاحب کی کیسے خبر لی ہے۔حالانکہ مدیر المنار کا اکثر غصہ جہاد کے بارہ میں حضور کے مضمون پر تھا۔ورنہ قاہرہ کے ہی اخبار المناظر کے ایڈیٹر نے ، جو ایک نامی ایڈیٹر تھا جس کی تعریف ایڈیٹر المنا بھی کرتا تھا، اپنے اخبار میں صاف طور پر اقرار کر دیا کہ کتاب اعجاز اسیح در حقیقت فصاحت و بلاغت میں بے مثال کتاب ہے اور صاف گواہی دی کہ اس کی مثل بنانے پر دوسرے مولوی ہرگز قادر نہ ہوں گے۔نیز کہا کہ اعجاز اسیح کی فصاحت و بلاغت در حقیقت معجزہ کی حد تک پہنچ گئی ہے۔اسی طرح قاہرہ ہی سے نکلنے والے عیسائی اخبار الہلال کے ایڈیٹر نے بھی اعجاز اسیح کی فصاحت و بلاغت کی تعریف کی۔(ماخوذ از اشتہار حضرت مسیح موعود مؤرخہ 18 نومبر 1901ء، مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 442 تا 447) انجاز مسیح کا چیلنج اور مخالفین کی بیچارگی۔ایک جائزہ کتاب اعجاز اسیح کے جواب سے صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے ہندوستان یا مصر ہی کے علماء عاجز نہیں آئے تھے بلکہ آج تک یہ معجزہ قائم ہے اور کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ اس عظیم کتاب کا جواب لکھنے کی کوشش بھی کر سکے۔ہاں ایک شخص نے کوشش کی لیکن چند ہی دنوں میں راہی ملک عدم ہو گیا۔مولوی محمد حسن فیضی ساکن موضع بھیں مدرس مدرسہ نعمانیہ واقع شاہی مسجد لاہور نے عوام میں شائع کیا کہ میں اعجاز مسیح کا جواب لکھتا ہوں۔ابھی اس نے جواب کے لئے کتاب اعجاز اسیح پر نوٹ ہی لکھے تھے اور ایک جگہ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الكَاذِ بین بھی لکھ دیا تو اس کے بعد ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ وہ جلد ہلاک ہو گیا۔(روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 3 تا 5)