مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 76 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 76

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 72 اسی طرح انہوں نے مختلف ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت سے سوال کئے جن کے جوابات ملفوظات جلد 4 میں موجود ہیں۔انہوں نے ایک سوال یہ کیا کہ ایک شخص نے کہا کہ لیکھرام کو خود اپنے کسی جماعت کے آدمی کے ذریعہ سے مروا ڈالا؟ حضور نے اس بات کا نہایت عارفانہ جواب عطا فرمایا جس کو یہاں درج کئے بغیر رہ نہیں سکتا۔حضور نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ ہزار ہا جماعت ہے، اگر ان میں سے کسی کو کہوں کہ تم جا کر مار آؤ تو یہ میری پیروی اور بیعت کا سلسلہ کب چل سکتا ہے؟ یہ تو جب ہی چل سکتا ہے کہ صفائی ہو اور پیرؤوں کو معلوم ہو کہ پاک باطنی کی تعلیم دی جاتی ہے۔اور جب ہم خود ہی قتل کے منصوبے لوگوں کو سمجھا ئیں تو یہ کاروبار کیسے چل سکتا ہے؟ اب یہ اس قدر گروہ ہے، کوئی ان میں سے بولے کہ ہم نے کس کو اور کب کہا تھا کہ جا کر اس کو مار ڈالے“۔اسی طرح 23 دسمبر 1902ء کو حضور نے دریافت فرمایا: چین میں اہل اسلام عربی زبان سے واقف ہیں کہ نہیں اور وہاں عربی کتب روانہ کرنے کے متعلق حضرت اقدس ابو سعید عرب صاحب سے گفتگو فرماتے رہے۔28 دسمبر 1902ء کو حضرت اقدس علیہ السلام کے حضور جناب ابوسعید عرب صاحب نے اپنے بعض احباب کا تذکرہ کیا اور گونہ افسوس ظاہر کیا کہ ان کو اس سلسلہ کی آگاہی اور اطلاع نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس تحریک پر ایک مختصری تقریر فرمائی۔عرب صاحب نے سوال کیا کہ میں نماز پڑھتا ہوں مگر دل نہیں ہوتا۔حضور نے اس کا مفصل علاج عطا فر مایا۔اس کا پہلا جملہ گویا مضمون کا خلاصہ ہے فرمایا: ” جب خدا کو پہچان لو گے تو پھر نماز ہی نماز میں رہو گے۔اب تو بالکل جانے کو دل نہیں چاہتا ابوسعید عرب صاحب کو کمال شوق دتی کے جلسہ کا تھا کہ وہاں کی رونق دیکھیں۔چنانچہ انہوں نے اجازت بھی چاہی تھی اور حضرت اقدس نے اجازت دے بھی دی تھی مگر یہ بھی ارشاد فرمایا تھا کہ دعائے استخارہ کر لو۔چنانچہ دعا سے پھر ایسے اسباب پیدا ہوئے کہ