مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 75
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول ہے۔دریافت فرمائے اور پوچھا کہ آپ کتنے دن تک رہ سکتے ہیں۔عرب صاحب نے بیان کیا کہ میں نے کلکتہ سے سیکنڈ کلاس کا واپسی کا ٹکٹ لیا ہے جس کی میعاد جنوری 1903 ء تک حضرت اقدس نے فرمایا کہ: میری بڑی خوشی ہے کہ آپ اس دن تک ٹھہریں جب تک کہ ٹکٹ اجازت دیتا ہے۔اس پر عرب صاحب نے نیاز مندی سے عرض کی کہ کرایہ کی فکر نہیں، ہمیں زیادہ بھی ٹھہر سکتا ہوں۔انہوں نے خود اپنے حالات جب حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کئے اور کہا کہ آئینہ کمالات اسلام نے آخر اس غلطی سے نجات دے کر حضور کی محبت کا تختم دل میں جمایا۔اس پر حضرت اقدس نے جو نصیحت فرمائی اس کے پہلے جملے یہ ہیں : خدا ہی کی تلاش کرو۔حقیقی لذت خدا ہی میں ہے۔شخص کبھی جھوٹ بولنے والا نہیں ہے عرب صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک چینی آدمی کے روبرو میں نے آپ کی تصویر کو پیش کیا۔وہ بہت دیر تک دیکھتا رہا ، آخر بولا کہ یہ شخص کبھی جھوٹ بولنے والا نہیں ہے۔پھر میں نے اور تصاویر بعض سلاطین کی پیش کیں مگر ان کی نسبت اس نے کوئی مدح کا کلمہ نہ نکالا اور بار بار آپ کی تصویر کو دیکھ کر کہتا رہا کہ یہ شخص ہرگز جھوٹ بولنے والا نہیں۔سارا قرآن ہمارے ذکر سے بھرا ہوا ہے 18 دسمبر 1902ء کو آپ نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ: ایک صاحب برما میں کہتے تھے کہ اگر میرزا صاحب صرف قرآن کی تفسیر لکھیں اور اپنے دعاوی کا ذکر اس میں ہرگز نہ کریں تو میں بہت سا روپیہ صرف کر کے اسے طبع کروا سکتا ہوں۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا: اگر کوئی ہم سے سیکھے تو سارا قرآن ہمارے ذکر سے بھرا ہے۔ابتداء ہی میں ہے : صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَ لا الضَّالِّينَ (الفاتحہ (7) اب ان سے کوئی پوچھے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ کونسا فرقہ تھا ؟ تمام فرقے اسلام کے اس پر متفق ہیں کہ وہ یہودی تھے اور ادھر حدیث شریف میں ہے کہ میری امت یہودی ہو جائے گی، تو پھر بتلاؤ کہ اگر مسیح نہ ہوگا تو وہ یہودی کیسے بنیں گے؟ ہوا 71